.

ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی خلیج عدن میں کشیدگی کا موجب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ایران کے بحری جہاز ایک ہفتے سے خلیج عدن میں موجود ہیں۔ اس دوران قذاق گروپوں کے ساتھ بھی تین تجارتی جہازوں کی مڈ بھیڑ ہوئی ہے جس کے بعد سمندرمیں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج عدن میں ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی اور ایرانی میزائلوں سے امریکی جہازوں پر حملے کشیدگی کا موجب بن رہے ہیں۔

ایران کے ’الخبر‘ ٹی وی چینل کے مطابق حال ہی میں صومالیہ سے آنے والے تین قذاق گروپوں نے تین ایرانی بحری جہازوں پر خلیج عدن کے جنوب میں 55 میل دور بحری قذاقوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ٹی وی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی فوج کے’الوند‘ بحری جنگی جہاز سے وابستہ گروپ 44 کے اہلکاروں اور قذاقوں کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر فائرنگ کی گئی۔

ایرانی فوج اور بحری قذاقوں کے درمیان یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب ایرانی بحریہ جنگی کشتیوں کی موجودگی پرامریکا اور خلیجی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جب سے ایران نواز حوثیوں نے ایرانی ساختہ میزائلوں سے امریکی بحری بیڑے ’یو ایس میسن‘ پرحملے شروع کیے ہیں ایرانی بحریہ کی خلیج عدن میں موجودگی ک تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی نہ صرف امریکی بحری جہازوں پر راکٹ حملے کررہے ہیں بلکہ حوثی باغی سعودی عرب پر’زلزال3‘ راکٹوں سے حملے کررہے ہیں۔ یہ راکٹ بھی ایران کی جانب سے باغیوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔