.

حلب میں جمعرات کو8 گھنٹے کی جنگ بندی کا روسی اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت نے کل سوموارکو ایک بیان میں کہاہے کہ روس اور شامی فوج پرسوں جمعرات کے روز حلب میں آٹھ گھنٹے کے لیے جنگ روک کر ہنگامی امدادی کاموں کے لیے موقع فراہم کریں گی۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روس کی جانب سے حلب میں جاری بمباری میں توقف کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب دوسری جانب اسدی فوج اور روسی پر حلب میں سنگین جرائم کےالزامات کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کی مساعی کو تباہ کرنے کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔ اسدی فوج اور اس کی حلیف روسی فوج دن رات حلب پرآگ برسا رہی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی رہیں۔

روس کی جنرل اسٹاف کمیٹی کے رکن جنرل سیرگے روڈسکوی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جمعرات 20 اکتوبر کو حلب میں روسی اور شامی فوج نے 8 گھنٹے کی جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔مقامی وقت کے مطابق صبح 8 سے 3 بجے تک حملے روکے جائیں گے تاکہ جنگ سےمتاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے آٹھ گھنٹے کے دورانیئے میں روسی اور شامی فوجیں بمباری نہیں کریں گی۔

جنرل روڈسکوی کا کہنا تھاکہ سب سے پہلے روس اور شامی فوج نے ہی حلب میں شہریوں کے پرامن اور محفوظ انخلاء، زخمیوں اور جنگجوؤں کو وہاں سے نکلنے کا راستہ دینے کی پیش کش کی تھی۔ اس بار بھی کاستیلو روڈ کی گذرگاہیں جنگجوؤں کو وہاں سے نکلنے کےلیے کھولی جائیں گی جب کہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچنے کے لیے چھ راستے متعین کیے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں روسی جنرل کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بغیر کسی رکاوٹ کے عالمی امدادی اداروں کی اپیل پر شہریوں تک طبی امداد پہنچانے اور طبی عملے کی رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔

ادھر دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ایک بیان میں روس کی جانب سے حلب میں آٹھ گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیاہے تاہم انہوں نے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔ مسزموگیرینی کا کہنا ہے کہ آٹھ گھنٹے کی جنگ بندی سے اگرچہ شہریوں کو معمولی ریلیف ملے گا مگر اس سے ان کی مشکلات دور نہیں کی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کی طرف سے جمعرات کو حلب میں آٹھ گھنٹے کی جنگ بندی کی یقین دہانی مثبت قدم ہے مگر آٹھ گھنٹوں میں متاثرہ شہریوں تک امداد پہنچانا مشکل ہے کیونکہ محاصرہ زدہ تمام علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بمباری سے شہری غیرمعمولی حد تک متاثر ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی روس کی طرف سے حلب میں محدود وقت کے لیے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اسے ناکافی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوگاریک کا کہنا ہے کہ حلب میں آٹھ گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان قابل قدر ہے مگر جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں میں امدادی کاموں کی بحالی کے لیے طویل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔