.

سعودی استاد کے پانچ مصری قاتلوں کا اعترافِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عدالتی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایک سعودی استاد کو قتل کرنے والے پانچ مشتبہ مصریوں نے اپنے جُرم کا اقرار کر لیا ہے۔

مصری پراسیکیوٹرز نے ان پانچوں ملزموں کو فردِ جُرم عاید کیے جانے تک جیزہ میں جیل میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان افراد کو مصری سکیورٹی فورسز نے دو روز پہلے دارالحکومت قاہرہ میں گرفتار کیا تھا۔

سینتالیس سالہ سعودی استاد خلیل العميرينی گذشتہ منگل کے روز قاہرہ میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ان کے مشتبہ قاتلوں کی عمریں 19 سے 32 سال کے درمیان ہیں۔ان میں ایک کار گیراج کا مالک حمدہ محمد طہٰ بھی شامل ہے۔یہ گیراج مقتول سعودی کی رہائش والی عمارت کے زیریں حصے میں واقع ہے۔

ان مشتبہ قاتلوں نے سعودی شہری کی ڈکیتی کی واردات کے دوران جان لی تھی اور انھوں نے مقتول کے پاس موجود 96 ہزار مصری پاؤنڈ اور چار ہزار سعودی ریال کی نقدی لوٹ لی تھی۔اس تمام واردات کا سرغنہ گیراج کا مالک تھا اور اسی نے اپنے دوستوں سے مل کر سعودی شہری کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس دوران انھیں قتل کردیا تھا۔

خلیل العميرينی قاہرہ میں واقع ایک اسکول میں استاد تھے۔ان کے قتل سے چندے قبل ان کے اعزاز میں اسکول میں منعقدہ الوداعی تقریب کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے۔وہ اس میں اپنے طلبہ اور ساتھی اساتذہ کے ساتھ نظر آرہے ہیں اور وہ انھیں الوداع کہہ رہے ہیں۔تقریب میں ساتھی اساتذہ انھیں ایک کیک بھی دے رہے ہیں جس پر لکھا تھا: ''شکریہ خلیل ہم آپ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں''۔