.

ڈونلڈ ٹرمپ کی مظلوم کشمیری عوام کے زخموں پر نمک پاشی

مسلمانوں سے نفرت، ہندوؤں سے اٹوٹ ہمدردیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ آئے روز اپنے قول و فعل سے کسی نا کسی طرح مسلمانوں کی دل آزاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ ایک طرف صدر منتخب ہوکر وہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا بیان دےکر مسلمانوں کو دکھ پہنچاتے ہیں اور دوسری طرف بھارت کے ہندوؤں کے ساتھ گہری ہمدردی جتلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں وہ برائے نام رواداری کے نام پر ایک قوم کی دل آزاری اور دوسری قوم کے ساتھ اپنی اٹوٹ محبت اور دوستی کا دم بھر کر یہ اپنی اسلام اور مسلمان دشمنی پر مہر تصدیق ثبت کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں سے کھلم کھلا نفرت اور ہندوؤں سے محبت کی تازہ مثال امریکی ریاست نیو جرسی میں منعقدہ ایک چیئرٹی کانفرنس میں دیکھی گئی۔ یہ تقریب امریکا میں مقیم ہندؤ کمیونٹی کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں بھارت اور ہندوؤں کا عاشق ہوں‘۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندوؤں اور بھارتیوں کی دلجوئی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں امریکا کا صدر منتخب ہوا تو بھارت کے شانے سے شانہ ملا کر چلوں گا۔ بھارت کے ساتھ انٹیلی جنس شراکت کے معاہدے کروں گا تاکہ اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بھارتی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

انہوں نے وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم سے متاثرہ کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے جموں وکشمیر کی سرحد کے قریب ھجرت کرنے والے بھارتیوں اور بنگلا دیش میں مہاجرین کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 منٹ کی تقریر میں بار بار ہندوؤں کی تعریف وتوصیف بیان کی اور ہندوؤں کو امریکا کی عظیم دوست قوم قرار دیا۔
انہوں نے ہندو کمیونٹی کی حمایت کےحصول کے لیے کہا کہ صدر بننے کی صورت میں وہ سنہ 2008ء میں بمبئی اور 2010ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کرانے میں مدد کریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھی خوب ستائش کی۔

کچھ عرصہ قبل تک ڈونلڈ ٹرمپ ہندوؤں اور بھارتی باشندوں کے خلاف بھی خوب اچھل کود کرتے ہوئے ان پر امریکیوں کے ملازمت کے حقوق غصب کرنے کا الزام عاید کرتے تھے۔ ٹرمپ نے پڑوسی ملک میکسیکو کے باشندوں کو بھی خوب رگیدا اور میکسیکوکے ساتھ دیوار کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔ شراب اور منشیات کے رسیا ٹرمپ نے میکسیکو کے لوگوں کو مجرم اور منشیات کے سودا گر قرار دیا۔

ریاست نیوجرسی میں ہندوؤں کی تقریب کے دوران ہندو باشندوں کی مذہبی رسومات میں بھی ٹرمپ نے علامتی شرکت کی۔ اس موقع پر رقص و سرود بھی پیش کیا گیا اور شرکاء نے رقص پیش کرتے ہوئے اسلام کے تصور ’جہاد‘ کا مذاق اڑایا اور دہشت گردی کو اسلام اور عربوں سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی۔