.

یمن: متحارب فریق بدھ سے 72 گھنٹے کی جنگ بندی کے لیے متفق

متحارب فریقوں کا اپریل میں طے شدہ جنگ بندی سمجھوتے کی شرائط سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ان کی متحارب حوثی ملیشیا نے بدھ سے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں اس مدت میں مزید توسیع بھی ہوسکتی ہے۔

یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اگر دوسرا فریق اس 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی پاسداری کرتا ہے تو اس مدت میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں آیندہ چند گھنٹوں میں جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ متحارب فریقوں نے اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی کے عارضی سمجھوتے کی شرائط سے ہی اتفاق کیا ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جنگی کارروائیاں روکنے کے بعد تنازعے کے مستقل حل کی راہ ہموار ہوگی۔

انھوں نے سمجھوتے کی مختصر تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت تمام فریق یمن کے تمام حصوں میں آزادانہ اور بلا روک ٹوک انسانی امداد پہنچانے اور اہلکاروں کو جانے کی اجازت دینے کے پابند ہوں گے اور تعز شہر کا محاصرہ ختم کردیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنگ بندی کا بدھ کی رات مقامی وقت کے مطابق 23:59 سے آغاز ہوگا اور تین دن کی ابتدائی مدت کے بعد اس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے۔

اس اعلان سے قبل اسماعیل ولد شیخ احمد نے اتوار کو لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن سے یمن میں تشدد کی کارروائیاں روکنے سے متعلق بات چیت کی تھی۔

انھوں نے بعد میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے درمیان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور جان کیری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ''اب یمن میں غیر مشروط طور پر جنگ بندی کے نفاذ اور پھر مذاکرات کی میز کی جانب بڑھنے کا وقت آ گیا ہے''۔