آئی ایم ایف: بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے سعودی حکومت کے اقدامات کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے شعبہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے سربراہ مسعود احمد نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اُجرتوں پر کنٹرول ،حکومتی اخراجات اور سرکاری شعبے کی ملازمتوں کی تعداد میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات ایک اچھا آغاز ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مصر میں افراط زر میں نمایاں اضافے کا امکان نہیں ہے کیونکہ درآمدی قیمتیں بلیک مارکیٹ کے نرخوں کی عکاسی کرتی ہیں۔وہ دبئی میں العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کر رہے تھے۔

انھوں نے سعودی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معیشت پر اثرات مرتب ہونے چاہییں۔البتہ انھوں نے کہا کہ انھوں نے نجی شعبے میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور بجٹ اصلاحات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

مسعود احمد نے بتایا کہ سعودی عرب کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے اور نتیجۃً اس نے سرکاری اخراجات گھٹانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔انھیں یقین ہے کہ سعودی عرب کے یہ اقدامات مناسب ہیں لیکن اس کے باوجود اس کے میزانیے کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 13 فی صد کی کمی کا سامنا ہے اور یہ گذشتہ سال کی شرح سے کم ہے۔

انھوں نے سعودی عرب کو تجویز پیش کی ہے کہ اس کو آیندہ پانچ سال کے دوران میں قومی میزانیے میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے سعودی حکومت کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گا تاکہ اخراجات میں کمی لائی جاسکے۔اسی لیے اس نے تن خواہوں کے بل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ کل اخراجات میں سے بھاری رقوم سرکاری ملازمین کی تن خواہوں پر اٹھ جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سرکاری ملازمتوں سے وابستہ فوائد وثمرات کو محدود اور کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔فی الوقت ان کی توجہ بھاری تن خواہیں لینے والوں پر مرکوز ہے اور میرے خیال میں یہ ایک اچھا آغاز ہے۔تاہم ان اقدامات کی سعودی معیشت میں عکاسی ہونی چاہیے۔تیل کے بغیر معیشت اس سال بڑھتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے جبکہ اس کی اس عبوری دور میں توقع کی جارہی تھی۔

مسعود احمد اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ سعودی عرب کو بجٹ اصلاحات کے ساتھ دوسرے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ نجی شعبے کو بھی متحرک کیا جا سکے،مارکیٹ میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں اور یہ سعودی عرب کے وضع کردہ پالیسی منصوبے کا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں