سویڈن : شام اور عراق سے 140 دہشت گردوں کی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سویڈن میں سرکاری ریڈیو نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سویڈن کی شہریت رکھنے والے تقریبا 140 افراد سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یہ افراد شام اور عراق جا کر تشدد کے حامل مسلح گروپوں کے ساتھ مل گئے تھے اور اب سویڈن واپس آ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں سویڈن میں صحافتی ذرائع نے دہشت گرد تنظیم داعش سے منسلک ہوجانے والے تقریبا 300 افراد کے نام ، تصاویر اور مختصر وڈیو کلپ جاری کیے تھے۔ یہ افراد سویڈن کی شہریت رکھتے تھے یا سویڈن میں سرکاری طور پر پناہ گزین کی حیثیت رکھتے تھے۔

سویڈن ریڈیو نے ملک کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے شہر لونڈ کی بلدیہ کی خاتون کوآرڈینیٹر آنا شوسٹرینڈ کے حوالے سے بتایا ہے کہ "لوگوں کی اس ٹولی کے ساتھ نمٹنے کی کیفیت کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی تھی لیکن مختصر یہ کہ ہم ان کے ساتھ بھی اسی طریقے سے نمٹیں گے جس طریقے سے تشدد پسند دیگر گروپوں کو چھوڑ دینے والے افراد کے ساتھ معاملہ کیا جا رہا ہے"۔ واضح رہے کہ دہشت گرد جماعتوں کے درمیان لڑائیوں کے باعث مقامی آبادی کے متعدد لوگ لونڈ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اس سے قبل شدت پسندی کے انسداد کے قومی کوآرڈی نیٹر کرسٹوفر کارلسن نے اپنی رپورٹ میں کہا گھا کہ "شدت پسند اور جرائم پیشہ گروپوں کو چھوڑ دینے والے تمام افراد کو سپورٹ کی ضرورت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ " یہ معاملہ اقتصادی اور سماجی صورت حال سے مربوط ہے۔ مذکورہ افراد کو روزگار کی منڈی میں پھر سے شامل کیا جانا چاہیے۔ مثلا ڈرائیونگ لائسنس کے حصول یا قرضوں کے خاتمے یہاں تک کہ رہائش کو یقینی بنانے میں ان افراد کی مدد ہونی چاہیے۔ یقینا یہ لوگ کسی چیز کے بدلے ہی شدت پسند گروپوں کو چھوڑ رہے ہیں.. اگر وہ چیز ان کو نہ ملی تو پھر منتقلی کا عمل دشوار ہو جائے گا اور یہ لوگ ایک بار پھر شدت پسندی اور تشدد کی راہ اپنالیں گے".

سویڈن کے اخبار "AFTONBLADET" کے مطابق سویڈن کے سراغ رساں ادارے "سائپو" کے پاس تقریبا داعش تنظیم میں شامل 286 افراد کے ناموں کی فہرست ہے جو سویڈن کی شہریت یا وہاں قیام کا اجازت نامہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں