ایمنسٹی کا بھارت سے متنازعہ قانون کے تحت گرفتار دو کشمیری لڑکوں کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں متنازعہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کیے گئے دو لڑکوں کو رہا کرے۔

تنظیم نے جمعرات کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ رئیس احمد میر اور وحید احمد گوجری کو یا تو رہا کرے یا پھر ان کے خلاف عالمی سطح پر تسلیم شدہ کسی جرم کے الزام میں کسی مناسب قانون کے تحت شفاف انداز میں مقدمہ چلائے''۔

تنظیم نے مزید کہا ہے کہ بھارت ان نو عمر لڑکوں کو کم سے کم مدت کے لیے زیر حراست رکھے۔انھیں بچوں کے لیے مخصوص حراستی مرکز ہی میں رکھا جائے اور ان کے خاندانوں کو ان تک رسائی دی جائے۔

ایمنسٹی نے اپنی اپیل میں یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیے گئے ان دونوں لڑکوں کے علاوہ زیر حراست دوسرے تمام بچوں کے کیسوں کی تفصیلی تحقیقات کی جائے۔ تنظیم نے اس متنازعہ ایکٹ اور بھارت میں نافذ دوسرے تمام انتظامی حراستی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رئیس اور وحید دونوں کو اس کالے قانون کے تحت گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا حالانکہ اس قانون میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے کسی فرد کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

رئیس احمد میر کی عمر 16 سال ہے،اس کو 16 ستمبر کو بھارت کے زیر انتظام ریاست کشمیر کے ضلع بارہ مولا سے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کے دو روز بعد اس کی ضمانت پر رہائی روک دی گئی تھی اور ایک انتظامی افسر نے اس کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔اس حکم میں غلط طور پر یہ کہا گیا تھا کہ رئیس میر کی عمر اٹھارہ سال ہے۔پھر اس کو اس کے گھر سے تین سو کلومیٹر جموں میں واقع کوٹ بھلوال سنٹرل جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

رئیس میر کے خاندان نے اس انتظامی حکم کو جموں وکشمیر کی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور دستاویز کے ذریعے عدالت میں یہ ثابت کیا تھا کہ اس کی عمر 18 نہیں بلکہ 16 سال ہی ہے۔

عدالت عالیہ نے 7 اکتوبر کو قرار دیا تھا کہ رئیس کے ساتھ قانون کے مطابق نوعمروں ایسا معاملہ کیا جائے کیونکہ بظاہر یہ ثبوت موجود ہے کہ وہ کم عمر ہے۔عدالت نے اس کو کوٹ بھلوال جیل سے نوعمر لڑکوں کے لیے مخصوص کسی گھر میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

کوٹ بھلوال جیل کے ایک عہدے دار نے بدھ 19 اکتوبر کو کہا تھا کہ ''جیل حکام نے ابھی تک رئیس میر کو کسی اور جگہ منتقل نہیں کیا ہے کیونکہ انھیں عدالتی احکامات کی نقل نہیں ملی ہے''۔

دوسرے زیر حراست لڑکے وحید احمد گوجری کی عمر بھی 16 سال ہے۔اس کو ضلع کپواڑا سے 18 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔پہلے اس کو ایک پولیس تھانے میں رکھا گیا تھا۔اس کے خاندان کے بہ قول پولیس نے انھیں بتایا تھا کہ وحید کو اگلے روز رہا کردیا جائے گا مگر پھر رہائی کے بجائے انھوں نے خاندان کو یہ بتایا کہ اس کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وحید گوجری کو پہلے بارہ مولا میں ایک جیل میں لے جایا گیا تھا اور وہاں سے کوٹ بھلوال کی جیل میں منتقل کردیا گیا۔اس کے خاندان کو ابھی تک اس کی حراست سے متعلق حکم ملا ہے اور نہ انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو کس بنیاد پر زیر حراست رکھا جارہا ہے۔

تاہم کوٹ بھلوال جیل کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس لڑکے کو بھی پی ایس اے کے تحت محبوس کیا گیا ہے لیکن بظاہر حکام نے ان دونوں کے حراستی احکام جاری کرنے سے قبل ان کی عمروں کو ملحوظ نہیں رکھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں