سعودی عرب:حزب اللہ سے وابستہ افراد اور ادارے پر پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب نے ایران کی حمایت یافتہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے اور اس کی سرگرمیوں میں معاونت پر دوافراد اور ایک ادارے پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق جن دو افراد کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے،ان کے نام محمد المختار فلاح کلاس اور حسن حاتم جمال الدین ہیں۔ان دونوں کا تعلق لبنان سے ہے۔پابندیوں کی زد میں آنے والی تنظیم کا نام گلوبل کلن ایس اے آر ایل ہے۔اس کے بغداد اور لبنان میں دفاتر ہیں۔

ان افراد اور ادارے پر سعودی عرب کے انسداد دہشت گردی کے قانون ،منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے قانون اور شاہی فرمان اے/44 کے تحت پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ان قوانین کے تحت انتہا پسندوں اور ان کے معاونین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''سعودی حکومت حزب اللہ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھے گی اور وہ دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور یہ واضح کرے گی کہ دنیا کے کسی ملک یا تنظیم کی جانب سے حزب اللہ کی جنگجویانہ اور انتہاپسندانہ سرگرمیوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جانی چاہیے''۔

''جب تک حزب اللہ افراتفری اور عدم استحکام پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔دنیا بھر میں دہشت گردی کے حملے کرتی رہتی ہے اور مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے تو سعودی عرب بھی اس کے لیڈروں ،کارکنان اور اداروں کو دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا''۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

یادرہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے مارچ 2014ء میں ملک اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والی متعدد تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور مصر کی اخوان المسلمون بھی شامل تھی۔ سعودی مملکت کے قوانین کے تحت دہشت گرد قرار دیے گئے حزب اللہ کے عہدے داروں کے اثاثے منجمد کر لیے گئے تھے اور سعودی شہریوں پر ان کے ساتھ کسی قسم کے لین دین پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

خلیج تعاون کونسل نے گذشتہ سال اور عرب لیگ نے اس سال مارچ میں حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔یمن میں حزب اللہ کے جنگجو حوثی باغیوں کی عسکری معاونت کررہے ہیں اورانھیں یمنی فوج سے لڑنے کے لیے اسلحہ اور جنگجو مہیا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں