.

کیلی فورنیا میں داعش کے بھرتی کنندہ سوڈانی ،امریکی کو 30 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک عدالت نے سوڈانی نژاد شخص کو اپنے ایک دوست کو مشرق وسطیٰ میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے بھیجنے میں مدد دینے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر تیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پچیس سالہ مہند بداوی کو جنگجو گروپ کی حمایت میں مواد مہیا کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دیا گیا ہے۔اس نے داعش کے لیے ایک اور شخص نادرالہزیل کو بھرتی کرنے کی شکل میں یہ مدد کی تھی۔نادر کو پہلے ہی ستمبر میں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کی سازش کے الزام میں مجرم ٹھہرایا جاچکا ہے اور عدالت نے اس کو بھی تیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

امریکی اٹارنی ایلین ڈیکر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''مدعا علیہ نے داعش کے ہلاکت آفریں نظریے کو قبول کرنے اور امریکا سے انحراف کے لیے وضع کردہ اسکیم میں شرکت کا اعتراف کیا تھا،اسی لیے اس کو طویل قید کی سزا سنائی گئی ہے''۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ بداوی داعش کا ایک سخت گیر بھرتی کنندہ اور سہولت کار تھا اور وہ شہادت کی موت مرنا چاہتا تھا۔اب اس طویل قید کے بعد رہائی کی صورت میں اس کی باقی ساری عمر نگرانی کی جائے گی۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بداوی کو بھی اتنی ہی سزا ملنی چاہیے جتنی الہزیل کو سنائی گئی تھی۔انھوں نے کیلی فورنیا کے علاقے سانتا آنا میں قائم امریکی ضلعی عدالت میں اس ماہ کے اوائل میں پیش کی گئی ایک یادداشت میں کہا تھا کہ ''ان دونوں کے جرائم یکساں طور پر سنگین ہیں۔ان کے بحالی کے امکانات بھی برابر معدوم ہیں۔اس لیے ان کے اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے مستقبل جرائم سے لوگوں کو بچانے کی ضرورت ہے''۔

بداوی کی وکیل کیٹ کوریگن نے عدالت میں اپنے دلائل میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے مؤکل کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی جائے۔ان کی دلیل یہ تھی کہ ان کے موکل کے پاس الہزیل کی طرح ملک سے روانہ ہونے کے لیے سفری ٹکٹ نہیں تھا اور وہ داعش میں شمولیت کے لیے ملک چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ فرد جرم اور سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔

بداوی کو امریکی حکام نے 21 مئی 2015ء کو گرفتار کیا تھا اور اسی روز الہزیل کو لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پکڑا گیا تھا۔وہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب جانے کے لیے طیارے پر سوار ہوا ہی چاہتا تھا۔وہاں سے اس نے ترکی کے شہر استنبول جانا تھا۔

بداوی سنہ 2006ء میں سوڈان سے امریکا منتقل ہوا تھا۔اس نے الہزیل کو یک طرفہ ٹکٹ کی خریداری کے لیے اپنا ڈیٹ کارڈ دیا تھا۔ یہ ڈیٹ کارڈ پیل گرانٹ فنڈ کا جاری کردہ تھا اور اس نے یہ اقدام امداد سے متعلق امریکا کے وفاقی مالیاتی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا تھا۔