.

ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

عاصمہ جہانگیر ایران میں انسانی حقوق کے مندوب مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ایران میں انسانی حقوق سے متعلق مندوب احمد شہید نے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے سے قبل آخری رپورٹ میں ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یو این مندوب برائے انسانی حقوق احمد شہید کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے دو ہفتوں کے دوران 40 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مندوب احمد شہید کے تہران داخلے پر پچھلے پانچ سال سے پابندی عاید رہی ہے۔ احمد شہید ایران میں خدمات سے سبکدوش ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ پاکستانی قانون دان عاصمہ جہانگیر کو یہ ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کے مندوب احمد شہید تہران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ میں ملوث ہیں اور وہ من گھڑت کہانیاں ایران تیار کرکے ایران کو انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

احمد شہید نے جاتے جاتے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران سرکار اپنی پرتشدد پالیسی اور انسانی حقوق کی کھلے عام پامالیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران میں صحافیوں ، اصلاح پسند اسکالروں، عام شہریوں، دوہری شہریت رکھنے والے افراد اور سیاسی و سماجی کارکنوں کے حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔ ایرانی جیلوں میں ڈالے گئے شہریوں پر ہولناک تشدد اور وحشیانہ حربوں کا استعمال جاری ہے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں اور شخصیات کو سنگین پابندیوں کا سامنا ہے۔ بیرون ملک سفر کرنے والے ہرشہری کو شک وشبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بالخصوص صحافیوں کے بیرونی دوروں پر پابندیاں ہیں اور اگرکسی کو دوسرے ملک جانے کی اجازت بھی دی جاتی ہے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

پچھلے تین سال کے دوران ایران میں سزائے موت دیے جانے کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ صرف جنوری 2016ء سے جولائی 2016ء تک 253 افراد کو منشیات اور دیگر الزامات میں پھانسی دی گئی۔ رواں ماہ کے دوران صرف دو ہفتوں میں 40 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔