.

حوثی ملیشیا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مرتکب

سیز فائر کی خلاف وزری کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا:عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عرب اتحاد اور حکومت کی جانب سے تین روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ایران نواز حوثی گروپ کی طرف سے جنگ بندی کی پامالیاں بدستور جاری ہیں۔ دوسری جانب سعودی مشیر دفاع جنرل احمد عسیری نے کہا ہے کہ وہ یمنی باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کل جمعرات کو حوثی باغیوں کی طرف سے مآرب شہر کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے گئے تاہم اتحادی فوج کے فضائی دفاعی نظام کی مدد سے ان میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

قبل ازیں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک بیان میں تھا کہ جنگ بندی کے پہلے روز حوثی باغیوں کی طرف سے سیز فائر کی ڈیڑھ سو خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔

سعودی مشیر دفاع اور اتحادی فوج کے ترجمان جنرل احمد عسیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمنی باغیوں کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

الحدث ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود باغیوں کی طرف سے شہریوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

کل جعمرات کو باغیوں کی طرف سے مآرب کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے جنہیں عرب اتحاد کے دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔

العربیہ نیوز چینل کے ذرائع کے مطابق جمعرات کو سعودی عرب کے سرحد شہر نجران میں حوثی باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے 17 اور جازان میں سات واقعات پیش آئے۔ باغیوں کی طرف سے گھات لگا کر حملوں کی کوشش کے ساتھ ہاون راکٹ حملے بھی شامل ہیں۔

جازان میں راکٹ گرنے سے دو عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ شہریوں کے زخمی ہونے کا واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ حوثی باغی اور سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی مساعی کےبعد یمنی حکومت اور یمن میں آئینی حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لیے سرگرم عرب اتحادی فوج نے تین دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے بھی جنگ بندی کی حمایت کی تھی مگر عملا باغیوں کی طرف سے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی ہے۔