.

لیبیا: تارکینِ وطن کی کشتی پر حملے کے الزام کی تردید

تارکینِ وطن کی کشتی میں افراتفری پھیلنے سے متعدد افراد سمندر میں گر گئے،چار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بحری فوج نے ایک امدادی تنظیم کی جانب سے عاید کردہ اس الزام کی تردید کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ایک لیبی اہلکار نے بحر متوسط میں تارکین وطن کی ایک کشتی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اس کشتی میں سوار بعض افراد سمندر میں گر گئے تھے اور ان میں سے چار ڈوب مرے تھے جبکہ متعدد لاپتا ہوگئے ہیں۔

طرابلس میں بحریہ کے ترجمان ایوب قاسم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک اہلکار اس کشتی پر یہ د یکھنے کے لیے سوار ہوا تھا کہ وہ لیبیا کے پانیوں میں کیوں رواں دواں ہے۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ''سی واچ'' کا کہنا ہے جمعہ کو علی الصباح ایک تیز رفتار کشتی ان کی تارکین وطن سے بھری کشتی کی جانب آگئی تھی۔اس پر لیبی کوسٹ گارڈ کا نشان تھا۔

سی واچ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ''لیبی بحریہ کی کشتی سے ایک شخص اس ربر کی کشتی پر سوار ہوگیا تھا اور اس نے تارکینِ وسطن کو ایک چھڑی سے پیٹنا شروع کردیا تھا۔اس سے افراتفری پھیل گئی اور کشتی ہچکولے کھانے لگ گئی جس سے متعدد افراد سمندر میں جا گرے''۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کوئی آتشیں ہتھیار استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

سی واچ کا کہنا ہے کہ اس نے سمندر سے چار نعشیں نکال لی ہیں لیکن اس نے بعض دوسرے افراد کو بھی ڈوبتے ہوئے دیکھا تھا لیکن انھیں نہیں بچایا جاسکا۔ربر کی کشتی پر قریبا ڈیڑھ سو افراد سوار تھے اور ان میں سے ایک سو بیس کو بچا لیا گیا ہے۔چار ہلاک اور باقی لاپتا ہوگئے ہیں۔

لیکن لیبی ترجمان ایوب قاسم نے اس بیان بالکل نا درست قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سی واچ نے ہم پر الزام عاید کیا ہے کہ ہم نے ان کی کشتی پر حملہ کیا تھا اورا نھوں نے ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ہمارا ان سے مطالبہ ہے کہ اگر وہ درست ہیں تو وہ اس کا ثبوت پیش کریں۔

انھوں نے صحافیوں کو مزید بتایا ہے کہ جمعہ کو علی الصباح ڈھائی بجے لیبیا کے مغربی ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والے کوسٹ گارڈ نے اپنے ساحل پر تین چھوٹے جہازوں کو پایا تھا۔ایک پیٹرول کمانڈر تارکین وطن کی کشتی پر سوار ہوگیا تھا اور اس نے دیکھا تھا کہ اس واقعے میں سی واچ ملو٘ث ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ''کمانڈر نے ان سے صرف یہ پوچھا تھا کہ وہ لیبیا کے پانیوں میں کیوں ہیں تو اس تنظیم کے عملے نے اس سوال کا کوئی منطقی جواب نہیں دیا۔اس پر انھیں لیبیا کے پانیوں سے باہر نکلنے کے لیے کہا گیا کیونکہ یہ لیبیا کی خود مختاری اور بین الاقوامی قواعد وضوابط اور اقدار کی بھی خلاف ورزی تھی۔

دوسری جانب سی واچ کے ترجمان روبن نیوجبیور نے برلن سے یہ بتایا ہے کہ ''ان کے جہاز سی واچ 2 کی پوزیشن لیبیا کی بندرگاہ زوارہ کے ساحل سے 14 ناٹیکل میل دور تھی جبکہ لیبیا کے پانیوں کی حدود اس کے ساحل سے 12 ناٹیکل میل پر ختم ہوجاتی ہے۔اب یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے اندھیرے میں کیا دیکھا تھا''۔