.

مصر:خامنہ ای اور ایردوآن کی متنازع تصاویر کیوں ہٹائی گئیں؟

سپریم لیڈر کے پوٹریٹ پر جامعہ الازھر بھی برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک مقامی ٹی وی چینل کی جانب سے اپنی اشتہاری مہم کو موثر بنانے کے لیے ایک مرکزی سڑک پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور کئی دوسرے عالمی رہ نماؤں کے پورٹریٹ نصب کیے گئے تھے مگر مصری پولیس نے ایک آپریشن میں وہ تمام متنازع تصاویر ہٹا دی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ’سٹی 6 اکتوبر‘ کی ایک مرکزی شاہراہ پر ایرانی سپریم لیڈر کا پورٹریٹ لگانے پر الازھر کو سخت تشویش ہے۔ کیونکہ ایرانی رہبر انقلاب کی تصاویر سے عوام الناس میں بھی غم وغصہ پھیل رہا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی رہ نماؤں کے پورٹریٹ مصر کے نجی ٹیلی ویژن چینل ’’الغد العربی‘‘ کی جانب سے نصب کیے گئے تھے۔ ٹی وی چینل نے نہ صرف ایرانی سپریم لیڈر کی تصاویر نصب کی تھیں بلکہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے علاوہ روس اور امریکا کے وزراء خارجہ کے تصویری پورٹریٹ لگائے ہوئے تھے۔

الغد العربی ٹی وی چینل کے چیئرمین اور صحافی عبدالطیف المناوی نے تصاویر کے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای اور ایردوآن سمیت تمام عالمی لیڈروں کی تصاویر سے ہم نے ایک خاص پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ خامنہ ای کا پورٹریٹ اس انداز میں تیار کیا گیا تھا تاکہ ایران کی عرب ممالک کے خلاف سازشوں کو اجاگر کیا جاسکے۔ ہم اس تصویر کے ذریعے یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ایران عرب ممالک کے بارے میں کس طرح کے مذموم عزائم رکھتا ہے۔ اسی طرح ترک صدرطیب ایردوآن کو ایک کرسی پر بیٹھے دکھایا گیا ہے تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ ایردوآن مسلمانوں کے خلیفہ بننے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ ترکی میں اپوزیشن قوتوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی ظالمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف کی تصاویر کے پس منظر میں آگ بھڑکتی دکھائی گئی جس کا مقصد شام کے بحران کے حل میں ان دنوں ملکوں کی ناکامی کو پیش کرنا ہے۔

ٹی وی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ تمام تصاویر ایک خاص پیغام کے لیے تیار کی گئی تھیں، مگر ان تصاویر سے غلط فہمی پیدا ہوئی جس کے بعد ٹی وی انتظامیہ اور پولیس نے باہمی مشاورت سے انہیں ہٹا دیا ہے۔