.

بجلی سے متعلق پارلیمنٹ کا اجلاس تاریکی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست کے میدانوں میں آئے دن نت نئی انہونیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اسی طرح کی ایک دلچسپ صورت حال وینزویلا کے پارلیمنٹ میں بھی سامنے آئی جب ارکان پارلیمنٹ ملک میں بجلی کے بحران اور اس سے متعلق نئے قانون کے حوالے سے جاری خصوصی اجلاس کو روکنے پر مجبور ہو گئے۔ جی ہاں اس تعطل کا سبب بھی پارلیمنٹ کی بجلی کا دو مرتبہ غائب ہو جانا تھا۔

پہلی مرتبہ بجلی کی فراہمی کا سلسلہ اس وقت منقطع ہوا جب صدر نکولس مادورو کے ایک ہمنوا رکن پارلیمنٹ اپنے خطاب میں بجلی کے سیکٹر کے حوالے سے حکمراں جماعت کی دانش مندانہ تدبیروں پر روشنی ڈال رہے تھے۔

اس موقع پر بجلی منقطع ہو جانا مذکورہ رکن کی جانب سے کی جانے والی مدح سرائی کو واضح طور پر جھٹلا رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ لوئس فلوریڈو نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ " ملک میں بجلی کی حقیقی صورت حال ان لوگوں کے سامنے ایک طمانچے کی صورت میں سامنے آئی ہے"۔

دوسری مرتبہ بجلی کی فراہمی منقطع ہوئی تو پارلیمنٹ کے ہال میں مکمل اندھیرا چھا گیا جس پر ارکان نے اجلاس ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

وینزویلا میں بجلی کی پیداوار سے متعلق مسائل کی بنیادی وجہ ملک کو درپیش اقتصادی بحران ہے۔ یہ بحران تیل کی قیمتوں میں کمی کا نتیجہ ہے جو ملک کے بجٹ کا پیٹ بھرنے کا مرکزی ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت نے 2016 کے آغاز سے ملک میں بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے واسطے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں گنجان آباد علاقوں میں ایک ماہ تک روزانہ 4 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ شامل ہے۔

تاہم ان اقدامات میں دلچسپ ترین مطالبہ صدر نکولس مادورو کی جانب سے سامنے آیا جنہوں نے ملک میں خواتین پر زور دیا کہ وہ بالوں کے سکھانے کے برقی آلات کا استعمال روک دیں۔