.

تیل کی قیمت میں کمی کا رجحان خاتمے کے قریب ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ختم ہونے کو ہے کیونکہ مارکیٹ میں بہتری آرہی ہے۔

وہ دارالحکومت الریاض میں خلیج وزارتی اجلاس کے بعد اپنے روس ہم منصب الیگزینڈر نوواک کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ رسد اور طلب کے حوالے سے مارکیٹ کی اساسیات تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہے۔

خالد الفالح نے کہا کہ سعودی عرب اور روس مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔سعودی عرب نے اوپیک اور خاص طور پر خلیجی ممالک اور روس کے درمیان رابطے کے لیے اہم کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ''آج کے مشترکہ اجلاس میں ہم نے اس بات سے اتفاق کیا ہے نومبر میں کیا کیا جانا چاہیے''۔وہ 30 نومبر کو ویانا میں تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے اجلاس کا حوالہ دے رہے تھے۔اس اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک میں تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق سمجھوتے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

روسی فیصلے کا اوپیک سمجھوتے پر انحصار

روسی وزیر توانائی الیگزینڈر نوواک نے خالد الفالح کی دعوت پر الریاض میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے توانائی کے اجلاس میں شرکت کی ہے اور ان سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافے اور پیداوار میں کمی سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے روس کی پیداواری سطح کا انحصار اوپیک کے سمجھوتے پر ہوگا کہ اس تنظیم کے رکن ممالک آپس میں کس بات پر متفق ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا:''میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زوردوں گا کہ ہم کوئی اعداد وشمار دینے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ مشاورت کا عمل جاری ہے اور پیداواری سطح کا انحصار اوپیک کے حتمی سمجھوتے پر ہوگا''۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا روس اپنی تیل کی پیداوار کو موجودہ سطح پر منجمد کردے گا یا اس سے بھی کم کرے گا؟ تو اس کے جواب میں مسٹر نوواک نے کہا کہ ''ہم مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں۔میں حتمی فیصلہ نہیں دینا چاہتا لیکن ہم فی الوقت چند ایک آپشنز پر غور کررہے ہیں''۔