ایرانی پولیس زیرحراست مذہبی اسکالر کے حامیوں پر پل پڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز دارالحکومت تہران کے بقیۃ اللہ اسپتال میں داخل ایک مخصوص مذہبی فرقے کے رہ نما کے حامیوں پر پولیس نے وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے جب کہ کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ہرانا‘ نے ایک ویڈٰیو فوٹیج جاری کی ہے جس میں پولیس کو بقیۃ اللہ اسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے نہتے مظاہرین پر وحشیانہ طاقت کا استعمال کرتے اور انہیں منتشر کرتے دکھایا گیا ہے۔ایرانی پولیس نےزیرحراست مذہبی رہ نما محمد علی طاہری کے فرقے کے حامیوں پر لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ محمد علی طاہری نامی ایرانی اسکالر نے سنہ 2006ء میں ملک میں ایک نئے مذہبی اور نفسیاتی علاج کے مرکز کی بنیاد رکھی جسے ’’حلقہ عرفان‘‘ نام دیا گیا۔ محمد علی طاھری اور ان کے پیروکاروں کے اپنے مخصوص نظریات ہیں۔ ان کے عقاید کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات میں ہرشے آگاہی رکھتی ہے اور ریڈیائی توانائی سے مالا مال ہے۔ انسان کا مقصد اور بہ قول ان کے مکتب فکر کا مقصد انسان میں موجود منفی توانائی سلب کرنا ہے‘۔

محمد علی طاہری کے قائم کردہ مرکز میں مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ نفسیاتی علاج اور کاسمیٹک سرجری کے ذریعے علاج کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا تھا مگر ایرانی حکومت محمد علی طاہری کے خیالات کو گمراہی پر محمول کرتے ہوئے اس کے خلاف انتقامی کارروائی پر اترآئی تھی۔

محمد علی طاھری پرگمراہ نظریات کے فروغ اور ایک غیرقانونی جماعت تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ فساد فی الارض کے مرتکب ہونے کے جرم میں عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ انہیں حراست میں لینے کے بعد اعتراف جرم کرانے کے لیے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

حال ہی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں محمد علی طاھری کی بگڑتی صحت اور دوران حراست انہیں تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خود محمد علی طاہری نے تہران کی بدنام زمانہ ایفین جیل سے انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس حکام اور تفتیشی ادارے اس پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ محمد علی طاھری نے کئی روز سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ بھوک ہڑتال کے باعث صحت خراب ہونے پر طاھری کو بقیۃ اللہ اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں گذشتہ روز ان کے سیکڑوں حامیوں نے اسپتال کے باہر جمع ہو کر طاھری کی رہائی کے حق میں مظاہرہ کیا۔

پولیس نے طاھری کے حامیوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے جب کہ کئی مظاہرین کوحراست میں بھی لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں