.

داعش کے شامی مرکز الرقہ کو ''الگ تھلگ'' کرنے کا کام جاری : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد شام میں داعش کے مضبوط مرکزالرقہ کو ''الگ تھلگ'' کرنے کے لیے بنیادی کام کررہا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز پیرس میں داعش مخالف اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ ''ہم پہلے ہی اپنے شراکت داروں کے لیے الرقہ کو الگ تھلگ کرنے کے بنیادی کام کا آغاز کرچکے ہیں''۔

آشٹن کارٹر نے کہا کہ ''آج ہم نے اسی ہنگامی احساس کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس کے تحت داعش کا الرقہ پر کنٹرول ختم کرانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی''۔

پیرس اجلاس میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک میں سے تیرہ کے وزرائے دفاع نے شرکت کی ہے اور انھوں نے عراق کے شمالی شہر موصل پر دوبارہ قبضے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز کرد جنگجوؤں کی معاونت سے گذشتہ سوموار سے داعش کو موصل سے نکال باہر کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے۔انھوں نے گذشتہ ایک ہفتے کی کارروائی کے دوران موصل کے مضافات میں واقع بہت سے دیہات اور علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور داعش کو پسپائی کا سامنا ہے۔

درایں اثناء فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اپنے اس انتباہ کا اعادہ کیا ہے کہ موصل میں موجود داعش کے جنگجو راہ فرار اختیار کرکے الرقہ کا رُخ کرسکتے ہیں۔انھوں نے میدان جنگ سے آبائی ملکوں کو لوٹنے والے غیر ملکی جنگجوؤں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔