امریکی وفد کے خفیہ دورہ ایران کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس امور محمود علوی نے حال ہی میں امریکی سیاست دانوں پر مشتمل ایک وفد کے دورہ ایران کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی وفد نے سینیٹر جیم ڈابکیس کی قیادت میں تہران کا خفیہ دورہ کیا تھا تاہم ایرانی وزیر کا کہنا ہےکہ یہ دورہ ایران میں امریکی مداخلت کے پروگرام کا حصہ نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کے شدت پسند حلقوں نے امریکی وفد کے دورہ تہران کی سخت مخالفت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل منگل کو ایرانی پارلیمنٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر محمود علوی نے کہا کہ امریکی سینیٹرز ڈابیکس اور موریس کے ایران پہنچنے پر ان کی سخت سیکیورٹی میں نگرانی رکھی گئی۔ ان کی ایران میں ملاقاتوں اور دیگر سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی ایرانی خفیہ اداروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے۔

محمود علوی نے بتایا کہ سینیٹر ڈابکیس دو مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ سنہ 2010ء کو تہران کے دورے پر آئے تھے۔ اس وقت ان کے خفیہ دورے پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان کا اشارہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب تھا جو امریکا کے حوالے سے انتہائی سخت موقف رکھتے تھے۔

محمود علوی کا کہنا تھا کہ اگر امریکی سینٹر کے وفد کے دورہ ایران پر اب بنیاد پرست حلقوں کو اعتراض ہےتو یہ اعتراض سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں کیوں نہیں ہوا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی سینٹر اور رکن کانگریس دابکیس نے امریکی نیوز ویب پورٹل ’Kutv‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے خفیہ دورہ ایران کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کاکہنا تھا ایران کے خفیہ دورے میں شامل وفد میں 12 امریکی شخصیات شامل تھیں جنہیں ایران کے ایک ادارے کی جانب سے مدعوکیا گیا تھا۔ وہ چھ دن تک ایران کے تہران اور اصفہان شہروں سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایران کا ویزہ کیسے حاصل کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایران کا ویزہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں قائم ایرانی دفتر سے لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں