لاکھوں ناظرین کے سامنے بچی سے زیادتی اور قتل کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انٹرنیٹ پر پیر کے روز جاری دھچکا پہنچانے والی وڈیو میں ترکی میں ایک شخص نے ٹی وی پروگرام کے دوران لاکھوں ناظرین کے سامنے ایک 4 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور اس کے قتل کا اعتراف کیا۔ بعد ازاں وہ خود پولیس کو لے کر لاش کے مقام پر پہنچ گیا۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک ممکنہ مشبہ شخص Himmet Akturk ترکی کے ایک ٹی وی پروگرام میں ظاہر ہونے پر حامی بھر لی۔ یہ پروگرام خصوصی طور پر پراسرار واقعات کی تحقیقات سے متعلق ہوتا ہے۔ پروگرام کی خاتون میزبانMuge Anli نے جب مذکورہ شخص سے ایک 4 سالہ لا پتہ بچی Irmak Kupal کے بارے میں سوال کیا تو اس شخص نے اچانک حیران کن طور پر اس بچی کے قتل اور زیادتی کی ذمے داری قبول کرنے کا اعتراف کر لیا۔

پولیس نے فوری طور پر ملزم کے ساتھ تحقیقات کیں جس نے اس مقام کا انکشاف کیا جہاں بچی کی لاش سے چھٹکارہ حاصل کیا گیا تھا۔

مذکورہ ٹی وی پروگرام جس بچی سے متعلق تحقیقات کے حوالے سے تھا وہ ترکی کے مغرب میںMansia شہر میں اپنے گھر کے باہر کھیلنے کے دوران لاپتہ ہو گئی تھی۔

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے پہلے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد اس کی لاش کو ایک تھیلے میں ڈال کر ہاتھوں سے چلانے والی ٹرالی میں رکھا اور قریب ترین کچرے کے ڈرم میں پھینک دیا۔ ملزم نے اگلے روز آ کر دیکھا تو کچرا نہیں اٹھایا گیا تھا لہذا اس نے فوری طور پر لاش کو نزدیک ہی ایک کھلے مقام پر دفن کر دیا.

قاتل کی جانب سے اعتراف کے دو روز بعد پولیس کو بچی کی لاش مل گئی۔ پولیس افسران کے مطابق اس تلاش میں پولیس کے خصوصی تربیت یافتہ کتوں نے خون کے آثار سونگھ کر لاش نکالے جانے کے عمل میں مدد کی۔

بچی کے لاپتہ ہوجانے کے بعد پولیس نے وسیع پیمانے پر تلاش کا کام شروع کیا تھا تاہم پھر اس یقین کے ساتھ کارروائی روک دی گئی کہ بچی زیادہ دور نہیں گئی ہو گی۔ بعد ازاں تحقیقات اغوا کے مقدمے میں تبدیل ہو گئیں جو کہ پراسرار رہا۔ یہاں تک کہ مقتولہ بچی کے اہل خانہ نے پروگرام کی میزبان سے ٹی وی تحقیقات کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں جرم کے تانے بانے سامنے آ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں