یمن کے لیے ایرانی اسلحے کی ترسیل روک دی گئی : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی بحریہ کے ایک ایڈمرل نے انکشاف کیا ہے کہ اپریل 2015ء کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی بحری فورسز نے ایران سے جنگ زدہ یمن کے لیے بھیجے گئے اسلحے کے چار جہاز پکڑے ہیں۔

یمن میں ستمبر 2014ء میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔امریکا اور سعودی عرب ایران پر حوثی باغیوں کو مسلح کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں جبکہ ایران ان کی تردید کرتا ہے جبکہ امریکا اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی بحری فوجیں سمندر میں یمن کی کڑی نگرانی کررہی ہیں ۔

امریکا کے وائس ایڈمرل کیون ڈونجین کا کہنا ہے:''امریکی بحریہ یا اتحاد کے جہازوں نے ایران سے یمن کو بھیجی گئی اسلحے کی چار کھیپیں پکڑی ہیں''۔انھوں نے جنوب مغربی ایشیا میں ایک غیر شناختہ فوجی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم جانتے ہیں کہ وہ (اسلحے کے جہاز) ایران سے آئے تھے اور ہمیں ان کی منزل کا بھی پتا ہے''۔

ایڈمرل ڈونیجین نے کہا کہ بحری جہازوں پر لدے اس اسلحے میں ہزاروں اے کے 47 آتشیں رائفلیں ،ٹینک شکن میزائل ،اسنائپر رائفلیں ،دوسرے فوجی آلات اور اعلیٰ قسم کے ہتھیاروں کے نظام شامل تھے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ان میں سے اسلحے سے لدے ایک جہاز کو اقوام متحدہ نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

ان کے اس بیان سے قبل امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ بحر احمر میں اسی ماہ امریکی جنگی بحری جہازوں پر حوثیوں کے میزائل حملوں میں ایران نے بھی شاید کوئی کردار ادا کیا ہے۔تین ستارہ ایڈمرل ڈونیجن کا بھی کہنا ہے کہ ''اس واقعے سے ایران کا کسی نہ کسی طرح تعلق ہے''۔

واضح رہے کہ ایران نے اپریل 2015ء میں سات جہازوں پر مشتمل ایک بیڑے کو یمن بھیجنے کی کوشش کی تھی اور پاسداران انقلاب کے دو جہاز ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے تھے۔ڈونیجین کا کہنا تھا کہ ان جہازوں پر کروز میزائل ،دھماکا خیز مواد اور دوسرے ہتھیار لدے ہوئے تھے۔

حوثی شیعہ باغیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ہی ستمبر میں دو مواقع پر امریکا کے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس میسن کی جانب زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں