.

مخالفت کے باوجود پاسداران انقلاب تیل کے معاہدوں میں سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے طاقت ور ادارے پاسداران انقلاب کی طرف سے ملک میں سیاسی حلقوں کی مخالفت کے باوجود عالمی سطح پر تیل کے معاملات ڈیل کرنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ پاسداران انقلاب کے ماتحت کام کرنے والی کمپنیاں اب بھی عالمی فرموں کے ساتھ تیل کے لین دین میں سرگرم عمل ہیں حالانکہ ایرانی پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] اس نوعیت کے معاہدوں کو ایرانی مفادات، دستور اور تیل کی پالیسی کے حوالے سے نقصان دہ قرار دے چکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی سطح پرگیس اور تیل کی خریدو فروخت میں سرگرم 50 بڑی کمپنیوں نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام کمپنیوں کے ساتھ 20 سے 25 سالہ مدت کے معاہدے کیے ہیں۔ ان سمجھوتوں میں تیل اور گیس کا ایران میں اخراج، اس کے ذخائر اور اس کی مقرر کردہ مقدار کی خریدو فروخت شامل ہے۔

اسی نوعیت کا ایک معاہدہ IPC کے نام سے کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کئی غیرملکی کمپنیوں کو ایران میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش، تیل اور گیس کے اخراج اور صاف کرنے کے کارخانے لگانے کی اجازت دی گئی ہے حالانکہ ایرانی پارلیمنٹ کے بیشتر ارکان نے اس نوعیت کے معاہدوں اور خفیہ لین دین پر کڑی تنقید کی ہے۔

ایرانی ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی طرف سے تیل اور گیس کے شعبے میں بین الاقوامی فرموں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں سےایران میں مغربی مداخلت تیل کو قومیانے کے دور سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آگئی ہے۔

حال ہی میں ایرانی وزارت پٹرولیم نے فرانسیسی آئل کمپنی ’ٹوٹل‘ کے ساتھ ایک نیا سمجھوتہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس معاہدے میں پاسداران انقلاب کی ’’خاتم الانبیاء‘‘ فرم نےصوبہ الاھواز میں ’’آزاد کان‘‘ کے مقام پر تیل فیلڈ کی توسیع میں شمولیت اختیار کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ پاسداران انقلاب تیل کے ذخائر کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

ایرانی وزیر تیل بیجن زنگنہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ میں خاتم الانبیاء آئل کمپنی تین ماہ کی عارضی مدت کے لیے ایک غیرملکی شریک کمپنی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس کی فیلڈ میں پاسداران انقلاب کو مزید چار پروجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان چاروں منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا وافر حصہ پاسداران انقلاب کو جائے گا۔

ادھر فرانسیسی کمپنی ’’ٹوٹل‘‘ کا کہنا ہے کہ ایران کے علاقے ’’آزاد کان‘‘ میں گیس فیلڈ کے لیے سرمایہ کاری کی خاطر رقوم کی منتقلی میں رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔ عالمی سطح پر ایران پرعاید پابندیوں کے باعث بھاری مقدار میں رقوم کی ایران منتقلی اب بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی اپنے طور پربین الاقوامی کمپنیوں کو ایران میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کی بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو ایران میں ہرطرح کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے مگر عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمت نے ایران کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔