.

یمن کے مرکزی بنک پر خودکش بم حملے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر عدن میں محافظوں نے مرکزی بنک پر خود کش بم حملے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور بمبار کی کار کو فائرنگ کرکے بنک کی عمارت کے نزدیک پہنچنے سے پہلے ہی دھماکے سے تباہ کردیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق فائرنگ سے خودکش بمبار کی گاڑی بنک کی عمارت سے قریباً تیس میٹر دور دھماکے سے پھٹ گئی ہے اور اس سے پانچ محافظ زخمی ہوگئے ہیں۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے بنک کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں اور نزدیک واقع دوسری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یمن کے مرکزی بنک کو گذشتہ ماہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حکم پر حوثی باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا سے عدن منتقل کیا گیا تھا۔یمنی حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر سنٹرل بنک سے زر مبادلہ کے ذخائر خرد برد کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

بنک کی عدن منتقلی سے حوثیوں کو شدید دھچکا لگا تھا اور اس کی وجہ سے انھوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سرکاری ملازمین کو تن خواہوں کی ادائی روک دی تھی۔

یمنی حکومت نے مرکزی بنک کی منتقلی کا فیصلہ اقوام متحدہ کی اگست میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے بعد کیا تھا۔اس میں بتایا گیا تھا کہ حوثی باغی اور ان کے اتحادی ہر ماہ مرکزی بنک سے دس کروڑ ڈالرز نکال رہے ہیں اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز رہ گئے ہیں جبکہ نومبر 2014ء میں یہ ذخائر قریباً چار ارب ڈالرز تھے۔