.

بشار حکومت پر جنگ میں "فاقے" کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ " جنگ میں فاقے کو بطور ہتھیار" استعمال کر رہا ہے جو جنیوا معاہدے کے مطابق جنگی جرم شمار ہوتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی ذمے دار نے حلب پر بم باری روک دیے جانے سے متعلق کرملن کی تصدیق کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ "(شامی) حکومت نے جنگ میں فاقے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے حلب میں انسانی امداد بھیجنے سے متعلق اقوام متحدہ کے مطالبات مسترد کر دیے"۔

کئی ماہ سے حلب شہر کی ایک چوتھائی آبادی (تقریبا دس لاکھ افراد) کو شامی حکومت کی جانب سے مسلسل بم باری اور محاصرے کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں بشار حکومت کو روس کی بھرپور معاونت حاصل ہے۔

واشنگٹن بشار حکومت پر اضافی پابندیاں عائد کرنے اور اس معاملے کو ہیگ میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں لے جانے پر غور کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کے روز اچانک ہونے والی رائے شماری میں انسانی حقوق کی کونسل کے لیے روس کی نامزدگی کو مسترد کر دیا۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ شام میں روس کی فوجی مہم کو انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک دوسرے سینئر ذمے دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہم دباؤ ڈالنے سمیت ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم تمام میسر وسائل پر غور کر رہے ہیں جو ان کو بین الاقوامی نکتہ چینی محسوس کرنے پر مجبور کر دے۔ تاہم ہمیں بعض ایسے عندیے ملے ہیں کہ روسی یہ نہیں چاہتے کہ انہیں جنگی جرائم کا مرتکب شمار کیا جائے"۔

اس سے قبل جمعے کے روز کرملن کے ترجمان دمتری بیسکوف نے کہا تھا کہ "روسی صدر (ولادیمر پوتن) اس وقت حلب پر فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کو مناسب خیال نہیں کر رہے"۔

تاہم امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ "روسی بیان کے باوجود شامی حکومت اور اس کے حامیوں کے حلب پر حملے بدستور جاری ہیں"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "یقینا ہم روس کے اقوال پر نہیں بلکہ اس کے تصرفات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں"۔