.

9 دہشت گردوں کو پکڑنے میں معاونت پر لاکھوں سعودی ریال انعام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے نو دہشت گردوں کی گرفتاری میں مدد دینے پر لاکھوں ریال (لاکھوں ڈالرز) کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گذشتہ کچھ عرصے کے دوران میں قطیف گورنری اور الدمام شہر میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد خطرناک افراد ان واقعات میں ملوّث تھے''۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ان حملوں میں سعودی شہریوں ،تارکین وطن اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، سرکاری یوٹیلیٹیز کو سبوتاژ کیا گیا تھا اور نقضِ امن کے علاوہ سکیورٹی اور اقتصادی تنصیبات کو حملوں میں ہدف بنایا گیا تھا۔بیان میں ان مشتبہ دہشت گردوں کی شناخت ان ناموں کی گئی ہے۔ان میں نمبرشمار ایک سے آٹھ تک سعودی شہری ہیں اور نواں بحرینی شہری ہے:

1۔ جعفر بن حسن مکی المبریک
2۔ فاضل عبداللہ محمد آل حمادہ
3۔ علی بلال سعود آل حمد
4۔ محمد بن حسين علی آل عمار
5۔ ميثم بن علی محمد القديحی
6۔ مفيد حمزة بن علی العلوان
7۔ ماجد بن علی عبدالرحيم الفرج
8۔ أيمن إبراهيم حسن المختار
9۔ حسن محمود علی عبدالله – بحرينی

وزارت داخلہ نے ان مذکورہ افراد سے کہا ہے کہ وہ خود کو سکیورٹی حکام کے حوالے کردیں اور اس نے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھے گا یا لین دین کرے گا تو وہ اپنے فعل کا خود ذمے دار ہوگا۔

وزارت داخلہ نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے یا ان سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے افراد کے لیے دس لاکھ سعودی ریال کے انعام کا اعلان کیا ہے۔اگر فراہم کردہ اطلاع کی بنیاد پر کسی ایک مطلوب شخص کی گرفتاری عمل میں آتی ہے تو اطلاع کنندہ کے لیے انعامی رقم بڑھا کر پچاس لاکھ ریال کردی جائے گی۔دہشت گردی کی کسی کارروائی کو ناکام بنانے کا موجب بننے والی اطلاع فراہم کرنے والے کو ستر لاکھ ڈالرز انعام میں دیے جائیں گے۔