.

ترکی : گولن سے تعلق کے شبہے میں گرفتار 10 ہزار ملازمین رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے فتح االلہ گولن سے تعلق کے شبہے میں گرفتار 10 ہزار شہری ملازمین کو رہا کر دیا ہے۔

ترکی کی پولیس نے انقلاب کی ناکام کوشش سے تعلق کی بنا پر فتح اللہ گولن کے ایک بھائی کو رواں ماہ کے اوائل میں گرفتار کر لیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن امریکا میں 1999 سے مقیم مبلغ فتح اللہ گولن پر الزام عائد کرتے ہیں کہ جولائی میں انقلاب کی ناکام کوشش میں گولن کا ہاتھ ہے۔

فتح اللہ گولن ترک صدر ایردوآن کے حلیف رہ چکے ہیں۔ وہ امریکا میں رہتے ہوئے " خدمت " کا نام سے اسکولوں ، غیر سرکاری تنظیموں اور کمپنیوں کا ایک نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ سال 2013 کے اواخر میں منظرعام پر آنے والے بدعنوانی اسکینڈل کے بعد سے وہ ترک صدر کے اول نمبر کے مخاصم بن گئے ہیں۔

اس وقت سے ایردوآن کی جانب سے گولن پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ ترک صدر کا تختہ الٹنے کے واسطے ایک "متوازی ریاست" قائم کرنا چاہتے ہیں جب کہ گولن اور ان کے حامیوں کی جانب سے اس کا انکار کیا جاتا رہا ہے۔