.

سعودی کابینہ : حوثیوں کے مکہ کی جانب میزائل حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ نے یمن کے شمالی صوبے صعدہ سے حوثی باغیوں کے مکہ مکرمہ کی جانب بیلسٹک میزائل کے حملے کی مذمت کی ہے اور اس کو مسلمانوں کے مقدسات مسجد الحرام اور کعبۃ اللہ کی جانب ننگی جارحیت قرار دیا ہے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت سعودی کابینہ کے اجلاس میں مختلف امور پر غور کیا گیا ہے۔کابینہ کو خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے وزرائے خزانہ اور امریکی وزیر خزانہ کے پہلے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی تعمیری گفتگو سے آگاہ کیا گیا۔

کابینہ کو خلیجی وزرائے خزانہ ،مالیاتی اداروں کے سربراہوں اور مرکزی بنکوں کے گورنروں کی عالمی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ حالیہ ملاقات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

سعودی کابینہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ ریجن کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور محسوسات کو مجروح کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس حملے کی اسلامی اور عرب دنیا اور دوست مسلم ممالک اور تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سعودی فورسز نے اس میزائل کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا تھا اور اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

کابینہ نے سعودی سکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کی ملکی سرحدوں اور مقامات مقدسہ کے دفاع کے لیے ان تھک کوششوں کو سراہا ہے۔اس نے سعودی عرب کے اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کے چوتھی مرتبہ بطور رکن انتخاب کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انتخاب سعودی عرب کی انصاف اور مساوات کے حصول اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں کوششوں پر اعتماد کا بھی مظہر ہے۔