.

ایرانی کابینہ میں سنی مسلمان وزیر مقرر کرنے کا مطالبہ

سنی ارکان پارلیمان کا صدر حسن روحانی کو مکتوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پارلیمنٹ میں 25 ملین سنی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمان نے صدر حسن روحانی سےاپنی کابینہ میں کم سے کم ایک سنی وزیرمقرر کرنے مطالبہ کیا ہے سنی ارکان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومتیں مسلسل اہل سنت مسلک کو نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کی تعداد اڑھائی کروڑ ہونے کے باوجود حکومت میں سنی مسلک کا کوئی ایک وزیر بھی مقرر نہیں کیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایرانی پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] میں شامل سنی ارکان اور دیگر سنی رہ نماؤں کی طرف سے سیاسی طور پراہل سنت کو محروم رکھنے کی ریاستی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ارکان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت میں نہ تو کسی سنی مسلمان کو وزیر مقرر کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی صوبے کا گورنر کوئی سنی مسلمان ہے۔ اس لیے ان کا اصولی مطالبہ ہے کہ حکومت آبادی کے تناسب سے کابینہ میں اہل سنت کے نمائندوں کا تقرر عمل میں لائے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سنی ارکان کی طرف سے صدر حسن روحانی کو ایک مشترکہ مکتوب ارسال کیا گیا ہے۔ اس مکتوب میں انہیں یاد دلایا گیا ہے کہ پچھلے صدارتی انتخابات کے دوران اہل سنت، کرد، بلوچ اور ترکمان آبادی کی 80 فی صد اکثریت نے ان[حسن روحانی] کی حمایت کی تھی۔ اس لیے اب اہل سنت کا بھی مطالبہ کہ صدر اپنی کابینہ میں کم سے کم ایک سنی وزیر کا تقررکریں۔

مکتوب میں اہل سنت کے رہ نماؤں نے صدر حسن روحانی کو ان کی انتخابی مہم کے دوران کیےگئےان وعدوں کی یاد دہانی کرائی گئی جن میں حسن روحانی نے صدر منتخب ہو کر اپنی کابینہ میں سنی وزیر مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر کو اہل سنت کی طرف سے یہ مکتوب ایک ایسے وقت میں ارسال کیا گیا ہے جب حال ہی میں صدر نے تعلیم، کھیلوں اور مذہبی امور کے نئے وزراء اپنی کابینہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے وزراء کا تقرر اصلاح پسندوں کے مطالبے پر حکومت میں ترمیم کا حصہ ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سنی رکن اور صوبہ کردستان کے مذہبی رہ نما حسین امینی کا کہنا ہے کہ حکومت میں اہل سنت وزیر کے تقرر جیسے مطالبات نہ تو مکتوبات کے ذریعے پورے کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی یہ معاملہ صدر کے اختیار میں ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں اہل سنت مسلک کی آبادی ملک کی کل آبادی کا 20 سے 25 فی صد ہے، مگر اس کے باوجود نہ تو اہل سنت کوکسی صوبے میں گورنر مقرر کرنے کا حق ہے اور نہ ہی ان کا کوئی وزیر کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے۔یوں ایرانی ولایت فقیہ اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کا سیاسی استحصال کر رہی ہے۔