.

امریکا : 31 مذہبی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں صدارتی انتخابات کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے۔ 8 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے امریکا کی آبادی میں مذہبی اور نسلی لحاظ سے تقسیم کا نقشہ دلچسپی سے خالی نہیں۔

امریکا کی 50 ریاستوں میں تقسیم 32.5 کروڑ کی مجموعی آبادی میں سے تقریبا 22.5 کروڑ شہریوں کو آئندہ منگل کے روز صدر کے انتخاب کا حق حاصل ہوگا۔ متعدد سیاسی مطالعوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ رنگ ، نسل اور مذہب کا صدارتی انتخاب میں بڑا اور اہم کردار ہوگا۔ ریپبلکن پارٹی ترجیحی بنیادوں پر پروٹسٹنٹ فرقے کے لیے کشش کا مرکز ہے جب کہ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی مختلف ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں اور نسلوں کی توجہ کا مرکز ہوگی۔

نسلی تنوع

امریکا کی آبادی میں بڑے پیمانے پر تنوع نظر آتا ہے۔ یہاں 31 سے زیادہ نسلی اور مذہبی مجموعے پائے جاتے ہیں۔ ان مجموعوں میں امریکیوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے جب کہ جرمن ، آئرش اور برطانوی نسل کے امریکی ملک میں چار بڑی نسلوں میں سے ہیں۔ افریقی نسل کے امریکی ملک میں سب سے بڑی اقلیت اور نسلی لحاظ سے تیسرا بڑا مجموعہ ہیں۔ ایشیائی نسل کے امریکی دوسری بڑی اقلیت ہیں جن کی جڑیں چین اور فلپائن سے ملتی ہیں۔

سال 2013 کی سرکاری مردم شماری کے مطابق سفید فام امریکی کُل آبادی کا 77.7% ہیں۔ ان کے علاوہ 13.7% افریقی نژاد ، 5.3% ایشیائی نژاد ، 1.2% الاسکا نژاد جب کہ 0.2% کا اصل تعلق ہوائی اور بحر الکاہل کے جزیروں سے ہے۔ امریکی آبادی میں 2.4% مرکب نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جب کہ ہسپانوی اور لاطینی نژاد کا تناسب 17.1%. ہے۔ ملک میں غیر قانونی مہاجرین کی تعداد کا اندازہ 1 کروڑ 10 لاکھ افراد کے قریب ہے جن میں اکثریت میکسیکو نژاد ہے۔

مذہبی نقشہ

سرکاری طور پر امریکا کو سیکولر ریاست شمار کیا جاتا ہے۔ امریکا کے آئین کی پہلی ترمیم مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ 2007 کے ایک مطالعے کے مطابق 78.4% بالغ افراد کا کہنا تھا کہ وہ مسیحی ہیں۔ امریکا میں پروٹسٹنٹ 51.3% اور کیتھولک 23.9% ہیں۔ اناجیلی عقائد رکھنے والے سفید فام امریکیوں کا تناسب آبادی میں 26.3% ہے اور یہ ملک میں سب سے بڑا مذہبی مجموعہ ہے۔ ایک دوسرے مطالعے کے مطابق ملک میں تمام نسلوں سے تعلق رکھنے والے اناجیلی عقائد کے حامل افراد کا تناسب 30-35 %.ہے۔

امریکا میں مسیحیت کے علاوہ سب سے زیادہ پھیلے مذاہب میں یہودیت (1.7%) ، بدھ مذہب (0.7%) ، اسلام (0.6%) اور ہندو مت (0.4%) ہیں۔

اعداد وشمار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ 16.1% امریکی خود کو لا دین یا ملحد شمار کرتے ہیں۔

2014 میں امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 71% آبادی مسیحی ہے۔ ان میں 21% کے قریب نے خو کو کیتھولک اور 47% نے خود کو پروٹسٹنٹ کہا۔ یہودی کل آبادی کا تقریبا 2 % جب کہ مسلمان تقریبا 1% ہیں۔ نیویارک یونی ورسٹی اور امریکی اسلامک ریلیشن کونسل کے مطابق امریکا میں مسلمانوں کی تعداد 20 سے 30 لاکھ کے درمیان ہے۔

علاوہ ازیں مذہب سے "لا تعلق" کی صفت اپنانے والے شہریوں کا تناسب تقریبا 23% رہا جو کہ 2007 میں سامنے آنے والے 16% تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔