.

جیل میں 63 برس گزار کر رہائی سے انکار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں فلاڈلفیا سے تعلق رکھنے والے ایک 79 سالہ قیدی نے مشروط (پے رول پر) رہائی کی پیش کش مسترد کر دی۔ جوزف لیگن کا جو 16 برس کی عمر سے قید کاٹ رہا ہے کہنا ہے کہ اس نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے طویل وقت گزار لیا ہے اور اب وہ بنا کسی شرط اور پابندی کے فوری رہائی چاہتا ہے۔

جوزف لیگن سزا پانے کے لحاظ سے قانونی طور پر کم عمر سب سے پرانا قیدی شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی سزا کی مدت اپنے جیسے کسی بھی اور کم عمر قیدی کی مدت قید سے زیادہ ہے جو 60 سے سے تجاوز کر چکی ہے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے امریکی روزنامے The Philadelphia Inquirer کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیگن کی عمر جب 16 برس تھی تو اسے اپنے دو ہم وطن افراد کو چھرے کے ذریعے قتل کر دینے کے جرم میں ملوث ہونے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا تھا۔

قاتل کو 63 برس قبل عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

کچھ عرصہ قبل امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں باور کرایا کہ قانونی لحاظ سے کم عمر مجرموں کو مشروط رہائی (پے رول) کے بغیر عمر قید کی سزا امریکی آئین کی آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے مطابق یہ ترمیم کم عمر افراد کے لیے کسی بھی سخت اور غیر معمولی سزا پر پابندی عائد کرتی ہے۔

اس طرح بوڑھے قیدی کے لیے پے رول پر رہائی کے ذریعے امید کی ایک کرن روشن ہو گئی۔ تاہم حیران کن طور پر قاتل نے اپنی مشروط رہائی کی پیش کش کو مسترد کر دیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آزادی کو بنا کسی شرط کے قبول کرے گا۔