.

سعودی کاروباری شخصیت کو غیرقانونی رقوم کی منتقلی پر قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک کاروباری شخصیت اور اس کے دو ایشیائی ملازمین کو دس کروڑ ریال کی غیر قانونی ترسیلات زر اور منی لانڈرنگ کے الزام میں عدالت نے قید کی سزا سنائی ہے اور پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی عرب کے ادارہ تحقیقات اور پبلک پراسیکیوشن نے ایک بنک کی طرف سے پیغام ملنے کے بعد ان تینوں مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ بنک نے اس کاروباری شخصیت کے کھاتے میں اندرون اور بیرون ملک سے کروڑوں ریال رقوم کی منتقلی کی اطلاع دی تھی۔

اس کیس کو تحقیقات کے بعد انتظامی عدالت کے سپرد کیا گیا تھا اور اس نے ان تینوں کو ضمنی منی لانڈرنگ کے الزام میں قصور وار قرار دیا ہے لیکن اس نے مشتبہ بنک کھاتے میں جمع کرائی گئی 10 کروڑ ریال ( 2 کروڑ 66 لاکھ ڈالرز) کی رقم ضبط نہیں کی ہے۔

عدالت نے سعودی کاروباری شخصیت کو ایک سال اور اس کے دونوں غیر ملکی ملازمین کو چھے، چھے ماہ قید کی سزا سنائی ہے اور سعودی شخص کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔تاہم اس نے دونوں تارکین وطن کو بے دخل کرنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ یہ دونوں ملازمین رقوم کی بنک میں منتقلی کے بعد گاہکوں یا خریدار کمپنیوں کو تعمیراتی مال مہیا کیا کرتے تھے۔

سعودی روزنامے الوطن میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اس سعودی کا جدہ میں کاروباری ادارہ قائم ہے جو تعمیراتی میٹریل کا کاروبار کرتا ہے۔اس کمپنی کے بنک کھاتے میں اندرون اور بیرون ملک سے بھاری رقم منتقل کی گئی تھی۔اس کاروباری شخص کے وکیل نے عدالت میں تمام بل اور بنک میں جمع کرائی گئی رقوم کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس شخصیت کا کاروباری ادارہ ایک سے زیادہ تجارتی سرگرمیوں میں ملوّث رہا ہے اور اس کے بنک کھاتے میں نامعلوم پارٹیوں کی جانب سے رقوم منتقل کی گئی تھیں اور اسی وجہ سے ادارہ تحقیقات نے اس پر کالے دھن کو سفید کرنے ( منی لانڈرنگ) کا الزام عاید کیا تھا۔بنک نے خود کو کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے الزام سے بچنے کے لیے ادارہ تحقیقات کو اس تمام معاملے کی اطلاع دی تھی۔

مذکورہ تینوں افراد کی پیروی کرنے والے وکیل عاصم ملّا کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت منی لانڈرنگ کے الزامات واضح ثبوت کی بنیاد پر عاید کیے جانے چاہییں اور عدالت کا فیصلہ واضح ثبوت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔محض شک کی بنا پر فیصلہ نہیں آنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ تینوں الزام علیہان نے جمع کرائی گئی رقوم کے ثبوت فراہم کیے تھے،اس لیے ان کی یہ رقم ضبط نہیں کی گئی ہے۔