.

عراق کی سرحد پر فوج کی تعیناتی حفظِ ماتقدم اقدام ہے : ترکی

فوج کی جمع بندی کسی خطرے کے لیے نہیں،بغداد حکومت سکون سے رہے : نائب وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرطولمس نے واضح کیا ہے کہ عراق کی سرحد کے ساتھ فوج کی تعیناتی حفظ ماتقدم کے طور پر ہے،یہ کسی خطرے کے لیے نہیں۔انھوں نے بغداد میں حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرے۔

عراق نے ترکی کو سرحد پر فوج کی تعیناتی کے بعد خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے دراندازی کی تو اس کو قیمت چکانا پڑے گی۔ترک فوج نے ٹینکوں اور دوسری بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو عراق کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سیلوپی کی جانب بھیجا ہے۔ترک فورسز کی یہ نقل و حرکت ایسے وقت میں عمل میں لائی جارہی ہے جب عراقی فوج اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی سے شمالی شہر موصل میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کررہی ہے۔

ترکی کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ موصل کے مغرب میں شیعہ ملیشیاؤں کی کارروائیوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ترکی کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اس سرحدی علاقے میں کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) دوبارہ منظم ہوسکتی ہے۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے خبردار کیا تھا کہ سرحدی علاقے کی کسی خلاف ورزی کا جواب دیا جائے گا۔ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرطولمس نے این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں حیدر العبادی کے الفاظ کا احترام کرتا ہوں لیکن انھیں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بیانات دینے چاہییں''۔

انھوں نے کہا کہ ہم ترکی کی سرحد پار سے لاحق خطرات سے تحفظ کے لیے اقدامات پر مجبور ہیں لیکن اس اقدام کو کسی خطرے کے بجائے حفظ ماتقدم کے طور پر لیا جائے۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ان کا ملک کسی سے جنگ یا محاذ آرائی نہیں چاہتا ہے اور سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ''اگر وہ ہمارے علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔عراق پر کوئی بھی چڑھائی ترکی کی توڑ پھوڑ پر منتج ہوگی''۔

ترک وزیر دفاع فکری ایسک نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سرحد پر فوج کی تعیناتی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے اور اگر عراق کے علاقے سنجار میں کرد جنگجو دوبارہ منظم ہوجاتے ہیں تو ترکی کی کوئی ایسی مجبوری نہیں ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے پیچھے انتظار کرتا رہے۔

ترکی کو موصل کے مغرب میں واقع شہر تل عفر میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کی کارروائی پر بھی تشویش لاحق ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان ملیشیاؤں کی جنگی کارروائیوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ان ملیشیاؤں نے تل عفر میں کوئی دہشت پھیلانے کی کوشش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔اس شہر میں ترکمن نسل کی آبادی کی اکثریت ہے جو تاریخی اور ثقافتی طور پر ترکی سے جڑی ہوئی ہے۔