.

ٹرمپ نیوکلیئر جنگ بھڑکا دیں گے، ہیلری نے خوف کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں صدارتی انتخابات کی ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن اپنے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کو لگام دینے کے لیے امریکی عوام کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ ٹرمپ کی ایسی تصویر پیش کر رہی ہیں گویا کہ ریپبلکن امیدوار صدر بنتے ہی نیوکلیئر دھماکے کا بٹن استعمال کر لیں گے۔ ہیلری اس تصور کو اپنے انتخابی اجتماعات اور اشتہارات میں استعمال کر رہی ہیں جن میں نیوکلیئر جنگ کے آسیب سے خبردار کیا جا رہا ہے۔

ریاست اوہایو میں پیر کے روز ایک یونی ورسٹی میں طلبہ کے انتخابی اجتماع سے خطاب کے دوران ہیلری نے ٹرمپ کے بعض بیانات کے اقتباسات پیش کیے جن میں انہوں نے نیوکلیئر ہتھیار کے استمعال کو خارج از امکان نہیں قرار دیا۔ ہیلری نے باور کرایا کہ ٹرمپ کے صدر بن جانے کی صورت میں نتائج کے طور پر بہت بڑے خطرات سامنے آئیں گے۔

ہیلری نے زور دے کر واضح کیا کہ " جب صدر ایک فیصلہ (نیوکلیئر ہتھیار کے استعمال) جاری کرتا ہے تو اس پر کانگریس اور مسلح افواج کی جانب سے مخالفت کے بغیر عمل کیا جاتا ہے۔ میدان جنگ میں افسران کے پاس سوائے ہتھیار چلانے کے کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ اس پورے معاملے میں 4 منٹ سے زیادہ صرف نہیں ہوتے"۔

اس موقع پر ہیلری نے بیلسٹک میزائلوں کے داغے جانے کی کارروائیوں کے سابق نگراں افسر بروس بليئر کو پیش کیا۔ بلیئر کا کہنا تھا کہ "یقینا ٹرمپ کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ محض ایک فون کال کے ذریعے کسی بھی وقت نیوکلیئر حملکا آغاز کر دیں"۔ انہوں نے واضح کیا کہ دوران ملازمت انہوں نے ایک ایسے مقام پر بھی خدمات انجام دیں جہاں زیر زمین محفوظ مقام سے 50 سے زیادہ نیوکلیئر میزائل داغے جا سکتے ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے پیر کے روز ایک نیا انتخابی اشتہار متعارف کرایا جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کے ریپبلکن حریف کی شخصیت اس لحاظ سے قدرے غیر متوازن ہے کہ ان کو نیوکلیئر بٹن کے استعمال کا اختیار دیا جائے۔

مذکورہ اشتہار پیش کرنے والی اداکارہ مونک لوئیس نے 1964 میں اپنے بچپن میں بھی نیوکلیئر جنگ کے خطرات کے بارے میں ایک اشتہار میں شرکت کی تھی۔

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نے اسی ادارکارہ کو اشتہار میں استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ گزشتہ صدی میں 60ء کی دہائی میں جو نیوکلیئر عفرت منڈلا رہا تھا وہ آج بھی اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔