.

یمن : حوثی ملیشیا نے تعز میں 150 خاندانوں کو بے گھر کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے تعز کے نواحی دیہی علاقوں اور قصبوں سے ڈیڑھ سو سے زیادہ خاندانوں کو زبردستی بے گھر کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق باغی جنگجوؤں نے تعز کے مغرب میں واقع قصبوں الدیہ ، الرود اور الربیح کے شمالی حصوں سے پچاس سے زیادہ خاندانوں کو بندوق کی نوک پر بے گھر ہونے پر مجبور کردیا ہے۔انھیں سوموار کو اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر خاندان بہت غریب ہیں اور اب گھروں سے بے دخلی سے یہ لوگ مزید مصائب سے دوچار ہوجائیں گے جبکہ حوثی ملیشیا کی جانب سے تعز کے نواحی علاقوں کےمحاصرے کے بعد سے بیشتر مکین پہلے ہی گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ تعز کے مشرق میں واقع قصبے السلوا کے علاقے السعید سے ایک سو سے زیادہ خاندانوں کو بے گھر کیا گیا ہے۔اس علاقے میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار عوامی مزاحمتی فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان گذشتہ دو روز سے خونریز جھڑپیں جاری ہیں اور ان کے نتیجے میں یہ خاندان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک کارکن عبداللہ السلوی نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ السلوا سے گذشتہ دو روز سے خاندان اپنا گھربار چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔ان افراد کے لیے کوئی جائے پناہ یا خوراک کا بندوبست نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ یہ خاندان حوثیوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے کے بعد گھربار اور مال مویشی چھوڑ کر جارہے ہیں۔انھوں نے یونیسیف اور دوسری عالمی ایجنسیوں سے ان یمنیوں کو خوراک اور رہنے کے لیے خیمے مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔