.

علی صالح راہ راست پر آ گئے، امن روڈ میپ قبول کرنے کو تیار!

اتحادی فوج کے حملے بند اور غیر ملکی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے منحرف صدر علی عبداللہ صالح نے قریبا دو سال تک مسلح بغاوت کے بعد راہ راست پر آنے کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے یمن میں قیام امن کے لیے پیش کردہ امن فارمولہ مجموعی طور پر مذاکرات کے لیے کافی حد تک مناسب ہے۔ علی صالح کا یہ بیان بغاوت ترک کرنے کا واضح اشارہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق مںحرف صدر علی عبد اللہ صالح نے اپنی جانب سے بھی کچھ شرائط عاید کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امن کے قیام کے لیے اتحادی فوج کو تمام فوجی کارروائیاں روکنا، شہروں کا محاصرہ ختم کرنا، غیر ملکی فوج کا انخلاء اور یمن پر عاید پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

علی صالح نے کھلے الفاظ میں کہا کہ وہ ملک کی سلامتی، استحکام، سالمیت اور خطے میں دیر پا قیام امن کے لیے ہرقابل عمل امن فارمولے میں مکمل تعاون اور مثبت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر دوسری جانب اقوام متحدہ کے یمن کے لیے ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے کل تیسرے روز بھی یمنی باغیوں کے نمائندوں سے اور حکومتی وفود سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔ ولد الشیخ احمد یمن میں جنگ بندی کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ یمن کی آئینی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے مندوب کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے کی بعض تجاویز بالخصوص صدر کے اختیارات محدود کرنے اور باغیوں کو اہم عہدوں کی فراہمی کی تجاویز مسترد کردی تھیں۔ فریقین اقوام متحدہ کے امن فارموملے پر اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ولد الشیخ احمد اپنے حالیہ دورہ صنعاء کے بعد ریاض کا دورہ بھی کریں گے جہاں وہ یمنی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

ادھر یمن میں برطانیہ کے سفیر اڈمنڈ براؤن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کا ویژن حکومت اور باغیوں میں سے کسی کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ کیونکہ اسی ویژن کے مطابق ولد الشیخ احمد صنعاء میں باغیوں سے بار بار ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کوئی اہم پیش رفت دکھائی نہیں دی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے بھی اقوام متحدہ کے امن فارمولے میں شامل بعض تجاویز مسترد کردی ہیں۔ حتیٰ کہ یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے امن روڈ میپ نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔