.

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی نژاد یہودی مشیر!

ایران مخالف ڈیوڈ بیمن فارسی زبان پرعبور رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں آئندہ ہفتوں کے دوران ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کا سخت مخالف سمجھا جاتا ہے مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ہمہ وقت ایران پر گرجنے برسنے والے مسٹر ٹرمپ کے انتہائی قریب شخصیات میں ایک ایسا مشیر بھی ہے جو نہ صرف ایرانی ہے بلکہ روانی کے ساتھ فارسی زبان بھی بولتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی نژاد یہودی مشیر پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ 38 سالہ ڈیوڈ بیمن کو ایک ماہ قبل ٹرمپ نے اپنا مشیر خاص مقرر کیا۔ وہ امریکا میں بسنے والےیہودیوں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطوں کے لیے پُل کا کردار ادا کررہے ہیں جب کہ اس سے قبل وہ ری پبلیکن پارٹی کی حمایت میں جاری مہم میں شامل رہے ہیں۔

ڈیوڈ بیمن سنہ 1984ء میں ایران سے امریکا منتقل ہوئے اور لاس اینجلس شہر میں اپنے خاندان کے ہمراہ سکونت اختیار کی۔ یہ شہر یہودی آبادی بالخصوص ایران سے امریکا نقل مکانی کرنے والے یہودیوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایرانی یہودیوں کی نسبت سے ’’تہران اینجلس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ہاروڈ یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ ڈگری رکھنے والےآرتھوڈوکس فرقے کے یہودی ڈیوڈ بیمن نے ذاتی طور پرخود کو ٹرمپ کی مشاورتی کمیٹی میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔ وہ اس سے قبل ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے خلاف جاری مہم بھی پیش پیش رہے ہیں۔ کچھ عرصہ انہوں نے کیلیفورنیا ریاست میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عہدے پر بھی کام کیا۔

امریکا میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف جاری رہنے والی مہم میں شمولیت کے دوران فارسی زبان دانی کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے میں امریکی سرکار کی معاونت کی۔ ڈیوڈ بیمن امریکا اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر طے پانے والے سمجھوتے کے بھی خلاف رہے۔

پچھلے کئی ماہ سے ڈیوڈ بیمن نے دن رات ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں مہم چلائی۔ اس دوران انہیں ٹرمپ کی یہودی برادری کے ساتھ رابطے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا ڈائریکٹر بنایا گیا۔ وہ ٹرمپ کے بارے میں اٹھنے والے ہراعتراض کا یہودیوں کو جواب دیتے اور انہیں مسٹرٹرمپ کے حوالے سے یہودی ووٹروں کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں۔

امریکا میں یہودیوں کی مقرب ویب سائیٹ’فورو وارڈ‘‘ سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ بیمن نے کہا کہ ’ہمیں مذہبی اور اصول پسند یہودیوں کی جانب سے واضح طور پریہ پیغام دیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی قیادت کے لیے اس وقت سب سے موزوں شخصیت ہیں‘۔

ایرانی نژاد یہودی مشیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کا دیگر ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کے ساتھ تقابل کرتےہوئے انہیں سب سے بہتر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونلڈ ٹرمپ میٹ رامنی، جون مکین حتیٰ کہ جارج ڈبلیو بش سے بھی بہتر امریکا کی خدمت کریں گے۔

ڈیوڈ بیمن ایک متحرک سیاسی کارکن ہیں۔ وہ اپنا بیشتر وقت نیویارک، فلوریڈا، اوھایو اور پنسلوینیا میں یہودیوں کے مراکز میں چل پھر کرگذارتے ہیں۔

ڈیوڈ بیمن ڈونلڈ ٹرمپ کے واحد یہودی مشیر نہیں بلکہ انہوں نے اپنی ٹیم میں اسرائیلی امور کی مشاورت کے لیے دو دیگر یہودیوں جیسن گریٹ بالٹ اور ڈیوڈ فریڈمن کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود ڈیوڈ بیمن کی یہودیوں کو ٹرمپ کی حمایت میں جاری مہم کافی مشکل کا شکار ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن بھی یہودیوں کو اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتیں۔ انہوں نے بھی یہودی کمیونٹی کے ساتھ اپنے مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے غیرملکی گروپوں کی معاونت سے امریکا بھر کے یہودیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کیں۔

گوکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع بیانات بالخصوص خواتین کے حوالے سے ان کی ہتک آمیز گفتگو کے باعث ان کی اپنی پارٹی کے کئی جہاں دیدہ رہ نما ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں مگر ڈیوڈ بیمن کا دعویٰ ہے کہ کچھ لوگوں کی طرف سے ٹرمپ کا ساتھ نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ امریکا کے یہودی اپنے ووٹوں سے پوری دنیا کو ’سرپرائز‘ دیں گے۔