.

خطے میں ایران کا برتاؤ غیر مثبت ہے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ " ایران کا خطے میں برتاؤ بالخصوص شام اور یمن کے حوالے سے رویہ غیر مثبت اور غیر تعمیری ہے"۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق ٹونر نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پورے خطے میں خاص طور پر شام اور یمن کے حوالے سے اپنے رویے کو تبدیل کرے۔ امریکی ترجمان نے باور کرایا کہ "خطے میں ایران کا برتاؤ نیوکلیئر معاہدے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوا"۔

مارک ٹونر کا یہ بیان جمعے کے روز ایران میں ہونے والے مظاہروں میں امریکا مخالف نعروں پر تبصرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ مظاہرے 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر یونی ورسٹی طلبہ کے حملے اور 52 امریکیوں کو طویل عرصے تک یرغمال بنائے رکھنے کے واقعے کی یاد مناتے ہوئے کیے گئے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "ایران میں امریکا دشمنی پر مبنی نعرے انتہا پسند سیاسی موقف کی ترجمانی کرتے ہیں، تاہم یہ ایران اور امریکا کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہر گز نہیں بنیں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ " ہم خطے میں بالخصوص شام ، یمن اور مشرق وسطی کے دیگر علاقوں کے حوالے سے ایران کے مستقبل کے رویے کی جانب دیکھ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس کے مواقف مثبت اور تعمیری ہوں گے"۔

امریکی سفارت خانے پر حملہ خمینی کا منصوبہ تھا : خامنہ ای

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے امریکی سفارت خانے پر حملے کی یاد منانے کے موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے پر حملے کی کارروائی مرشد اول خمینی کی منصوبہ بندی تھی اور خمینی نے ایران میں وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعے کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔

خامنہ ای نے جمعے مظاہرہ کرنے والے یونی ورسٹی طلبہ اور اسکول کے بچوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ " واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اقتصادی مسائل حل کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ " امریکی غداری اور بے وفائی سے متصف ہیں۔ وہ اس وقت اندورنی مسائل سے دوچار ہیں اور اپنے سیاسی ، اقتصادی ، بین الاقوامی اور اخلاقی بحرانوں سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔"