.

اقوام متحدہ ایلچی سے بات چیت کے بعد حوثی وفد کی مسقط آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغیوں کا ایک وفد محمد عبدالسلام کی سربراہی میں اومان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گیا ہے۔ حوثی وفد نے قبل ازیں دارالحکومت صنعا میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد سے ملاقات کی تھی۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عبدالسلام نے عالمی ایلچی کو ان کے مجوزہ امن منصوبے کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ہے اور اس کو یمن میں امن اور استحکام کے لیے تعمیری قراردیا ہے۔

اسماعیل ولد شیخ احمد نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ تین روز کے دوران صنعا میں حوثیوں اور یمنی بحران کے دوسرے کرداروں سے بات چیت کی ہے۔ وہ بھی آج سوموار کو صنعا سے واپس روانہ ہوگئے ہیں۔

یمنی صدر منصور ہادی نے اسماعیل ولد شیخ احمد کی جانب سے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے پیش کردہ نئے امن منصوبے کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے ذریعے حوثی باغیوں کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ حوثیوں نے اس کو بات چیت کے لیے ایک بنیاد کے طور پر قبول کر لیا ہے۔

درایں اثناء عبدالسلام نے کہا ہے کہ مسقط بین الاقوامی فریقوں کے اجتماع کے لیے اجلاس کی پہلی جگہ بن سکتا ہے تاکہ یمن میں انسانی اور اقتصادی صورت حال کے خاتمے کے لیے نقشہ راہ وضع کیا جا سکے۔

صدر منصور ہادی نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ پہلے سے طے شدہ اتفاق رائے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کے تحت ملک میں قانونی حاکمیت بحال ہونی چاہیے۔انھوں نے مجوزہ روڈ میپ کو دھماکا خیز قراردیا ہےاور کہا ہے کہ اس سے ملک میں نئے تنازعے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

ادھر یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے پانچ بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔حوثی ملیشیا نے یہ میزائل مآرب سے چلائے تھے۔

صوبے الجوف کے ضلع الغائل میں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے جبکہ عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے اس علاقے پر بمباری کی ہے جس سے بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔یمن کے تین صوبوں حجہ ،تعز اور شبوہ اور صنعا کے شمال مشرق میں واقع علاقے نہم سے متحارب فریقوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔