.

بشارالاسد خامنہ ای کا وفادار سپاہی ہے: ایرانی جنرل

حلب میں مقتول ایرانی جنرل کا مکتوب منظر عام پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی کے ذرائع ابلاغ نے قریبا ایک سال پیشتر شام میں اپوزیشن فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایرانی پاسداران انقلاب کے اہم عہدیدار بریگیڈیئر جنرل حسین ھمدانی کے ایک مکتوب کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ’وفادار‘ سپاہی قرار دیا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی ’فارس نیوز‘ کی جانب سے شائع کردہ مکتوب میں جنرل ہمدانی نے شام میں بشارالاسد کی حمایت میں ایران کی شمولیت کے اسباب کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے سپاہیوں اور افسروں کو شام بھجوائے جانے پر عوام شاید خوش نہ ہوں۔ معاشرے میں ہم سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ ہماری فوج شام میں کیا کرنے گئی ہے،جب ہم اپنے عہدیداروں کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں وہاں بھی اسی طرح کے سوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنرل ہمدانی نے اپنے مکتوب میں لکھا کہ ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کی سب سے پہلے حمایت کرنے والوں میں شام اور وہاں کی بعث پارٹی کی حکومت بھی پیش پیش تھی۔ اس لئے اہل ایران میں شام کے لیے خاص مقام ہے۔ ایران میں انقلاب کی حمایت کرنے پر شام کے لیے خصوصی کھاتا قائم کرنا ہماری ذمہ داری تھی۔

جنرل ہمدانی رقم طراز ہیں کہ عراق کی جانب سے شام سے بحر متوسط تک پھیلی تیل پائپ لائن بند کیے جانے کے نتیجے میں غیرمعمولی نقصان بھی اٹھانا پڑا مگر شام کے حکمران اسد خاندان نے ہمارے لیے اس خسارے کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر شام میں بشار الاسد کا اقتدار ختم ہوتا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ بھی ختم ہوجائے گی۔ حزب اللہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اہم اڈا اور ایک بڑی کامیابی ہے جو خطے میں شام کی معاونت سے ایرانی مفادات کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ماضی میں لبنانی حکومتوں کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ ہونے کے باعث حزب اللہ کو سپورٹ کیا جاتا رہا ہے۔

سابق ایرانی جنرل نے اپنے مکتوب میں صدر بشار الاسد کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا وفادار سپاہی قرار دیا۔ا نہوں نے لکھا کہ بشار الاسد ایران کی جنگ لڑ رہے ہیں۔