.

68 فی صد سعودی ہلیری کلنٹن کی جیت کے حامی : سروے

46 فی صد عرب رائے دہندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو برا آدمی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں قائم عرب مرکز برائے تحقیق اور پالیسی مطالعات کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق 68 فی صد سعودیوں کے نزدیک ہلیری کلنٹن منگل 8 نومبر کو ہونے والا صدارتی انتخاب جیت جائیں گی جبکہ 46 فی صد کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بُرے آدمی ہیں۔

اس سروے میں نو ممالک الجزائر ،مصر ،عراق ،کویت ،مراکش ،اردن ،فلسطین ( غربِ اردن اور غزہ کی پٹی) ،سعودی عرب اور تیونس سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے حصہ لیا ہے۔ہر ملک سے اوسطاً چار سو افراد سے ایک سوال نامے کے ذریعے امریکی صدارتی امیدواروں سے متعلق رائے پوچھی گئی تھی۔

ایک سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ دونوں میں سے کون سا صدارتی امیدوار عرب خطے کے بارے میں امریکا کی پالیسی پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوگا؟ اس کے جواب میں 65 فی صد سعودیوں کی رائے تھی کہ ہلیری کلنٹن کی جیت مثبت انداز میں عرب خطے پر اثرانداز ہوگی۔

66 فی صد عرب رائے دہندگان کی ترجیح یہ ہےکہ ہلیری کلنٹن کو صدارتی انتخاب جیتنا چاہیے جبکہ 11 فی صد کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ہونی چاہیے۔مراکش اور تیونس سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان کی اکثریت نے کلنٹن کی جیت کے حق میں رائے کا اظہار کیا ہے جبکہ فلسطین اور عراق سے تعلق رکھنے والے افراد میں سے بہت تھوڑی تعداد نے ان کی کامیابی کے حق میں رائے ظاہر کی ہے۔ اسی طرح مصر اور عراق سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان کی زیادہ تعداد ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے حق میں تھی۔

رائے دہندگان سے جب اںٹرویو کے دوران یہ پوچھا گیا کہ امریکا کے آیندہ صدر کو کن امور پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تو ان کا کہنا تھا کہ نئے صدر کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ عرب ممالک کے امور میں مداخلت نہ کرے۔پھر وہ داعش کے خلاف لڑے ۔فلسطینی، اسرائیلی تنازعے کو حل کرائے۔ نیز وہ شام اور یمن میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے۔