.

امریکا :صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ،کلنٹن اور ٹرمپ میں کانٹے کا مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے اور امریکی رائے دہندگان ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔امریکی ووٹر کانگریس میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈال رہے ہیں۔

ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے نیویارک میں اپنے گھر کے نزدیک واقع ایک ایلیمنٹری اسکول میں قائم پولنگ اسٹیشن میں اپنے خاوند بل کلنٹن کے ہمراہ ووٹ ڈالا ہے۔ اس موقع پر ان کے قریباً ڈیڑھ سو حامی موجود تھے اور انھوں نے ''مادام صدر'' کے نعرے لگائے۔

وہ ووٹ ڈالنے کے بعد وہاں موجود لوگوں میں گھل مل گئیں اور کہا کہ ''میں اس وقت بہت خوش ہوں۔میرے تمام دوستوں اور ہمسایوں نے مجھے بہت خوش کردیا ہے''۔ وہ اگر انتخابات میں جیت جاتی ہیں تو امریکا کی پہلی خاتون صدر ہونے کی تاریخ رقم کریں گی۔

اس تاریخی صدارتی انتخاب میں ان کے حریف ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی رہائش گاہ کے نزدیک اپنا ووٹ ڈالا۔وہ نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں پبلک اسکول نمبر 59 میں قائم کیے گئے پولنگ اسٹیشن میں لیموزین گاڑیوں کے ایک موٹرکیڈ کے ہمراہ مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے کے لگ بھگ ووٹ ڈالنے کے لیے آئے تھے۔

ووٹ ڈالنے کے بعد انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم دیکھیں گے کہ کیا نتیجہ آتا ہے''۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر وہ ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ہار جاتے ہیں تو کیا وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرلیں گے۔

انھوں نے ہلیری کلنٹن سے تیسرے اور آخری صدارتی مباحثے کے دوران بھی اسی قسم کے کلمات کہے تھے اور کہا تھا کہ وہ ہار کی صورت میں نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔اس پر انھیں ڈیموکریٹس اور دوسروں نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ وہ امریکا کے انتخابی نظام کے حسن ''پرامن انتقال اقتدار'' کو داغ دار کرنے جارہے ہیں۔

ریاست انڈیانا کے شہر انڈیانا پولس میں ٹرمپ کے ساتھی نائب صدارتی امیدوار مائیک پینس نے اپنا ووٹ ڈالا۔وہ ایک بائیک پر پولنگ اسٹیشن آئے تھے۔اس موقع پر انھوں نے ہر ایک امریکی سے اپیل کی کہ وہ اندرون اور بیرون ملک امریکا کو مضبوط بنانے کے لیے ووٹ ڈالیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیدوار ٹم کین نے اپنی اہلیہ این ہولٹن کے ہمراہ ریاست ورجینیا میں واقع اپنے آبائی شہر رچمنڈ میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے منگل کو علی الصباح اپنا ووٹ ڈالا تھا۔رچمنڈ میں سینیٹر ٹم کین کی رہائش گاہ کے نزدیک ایک کمیونٹی سنٹر میں پولنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے جہاں مقامی وقت کے مطابق صبح چھے بجے پولنگ کا آغاز ہوا تھا۔ٹیم کین ووٹ ڈالنے والے اولین لوگوں میں شامل تھے۔

اس موقع پر ان کے مداحوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکیوں کی ووٹ ڈالنے کے لیے حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو وہ اپنی ساتھی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے ساتھ مل کر ملک کو اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ''ایک طاقتور جمہوریت کی نشانی یہی ہے کہ اس میں بہت سے لوگ شریک ہوتے ہیں''۔

جیت کس کی؟

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے پولنگ کے آغاز سے چندے قبل اپنے حامیوں کے لیے ایک پیغام جاری کیا تھا اور کہا کہ ''ہمیں جیتنا ہوگا''۔انھوں نے کہا:'' آج ہماری آزادی کا دن ہے اور امریکا کی ورکنگ کلاس جوابی وار کرنے جارہی ہے''۔

انھوں نے ریاست میشی گن کے علاقے گرینڈ ریپڈز میں اپنی اختتامی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ'' اگر ہم صدارتی انتخاب نہ جیت سکے تو یہ میری زندگی میں وقت ،توانائی اور رقم کا سب سے بڑا ضیاع ہوگا''۔

دوسری جانب ان کی حریف ہلیری کلنٹن نے ووٹروں پر زوردیا کہ وہ ٹرمپ کے ''تاریک اور منقسم'' ویژن کو مسترد کردیں۔ انھوں نے کہا '' یہ بلاجواز بات ہے کہ امریکا کے اچھے دن کیوں ہمارے سامنے نہیں ہیں''۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پولنگ کے روز بھی اپنے بیانات میں امریکا کے نیوز میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اپنی مناسب انداز میں کوریج نہ کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔انھوں نے رائے عامہ کے جائزوں کو بھی مسترد کردیا ہے حالانکہ وہ ایک زمانے میں خود ان جائزوں کے بڑے شائق اور حامی رہے ہیں۔رائے عامہ کے بعض جائزوں میں ہلیری کلنٹن کو ٹرمپ پر چھے پوائنٹس کی برتری حاصل ہے اور بعض میں اس سے زیادہ کی بھی برتری ہے۔