.

ایرانی اسکالر کا امریکی اور اسرائیلی پرچم کی توہین سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک ممتاز دانشور اور جامعہ تہران سے وابستہ سیاسیات کے استاد ڈاکٹر صادق زیبا کلام نے یونیورسٹی کے اندر سیڑھیوں کے زینوں پر بنائے گئے اسرائیلی اور امریکی پرچموں کی توہین سے انکار کرکے شدت پسندوں کی مخالفت مول لی ہے۔ ایران کے شدت پسند حلقوں کی طرف سے صدر حسن روحانی کے مقرب ڈاکٹر زیبا کلام کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں اسرائیل اور امریکا کا ایجنٹ تک قرار دیا جانے لگا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں ڈاکٹر زیبا کلام کو یونیورسٹی کے اندر داخل ہونے کے بعد سیڑھیوں کے زینوں پربنے امریکااور اسرئیل کے پرچموں پر پاؤں رکھنے کے بجائے پرچموں سے بچ کر چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر زیبا کلا کے اس اقدام پرایران کے بنیاد پرست حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ شدت پسند ایرانی مذہبی رہ نما حمید رسائی نے پرچموں کی توہین نہ کرنے کو امریکا اور اسرائیل کا احترام کرنے کے مترادف قرار دیا۔

درایں اثناء اسرائیلی اخبارJewish Press کی جانب سے ایران میں ایک پروفیسر کی جانب سے مریکا اور اسرائیل کے قومی جھنڈوں کی توہین نہ کرنے کی تحسین کی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ڈاکٹر زیبا کلام کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرن میں بھی عقل وخرد رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔

صہیونی ریاست کا اخبار مزید لکھتا ہے کہ ایران میں مذہبی انتہا پسندوں کے اقتدار پر قبضےسے قبل ایرانی اور اسرائیلی اقوام ایک دوسرے کی دوست تھیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج پر اپنے رد عمل میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زیبا کلام کا کہنا ہے کہ ’یہ بات مناسب نہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک کے قومی پرچم کا احترام نہ کریں‘۔