.

''ہلیری یا ٹرمپ: دونوں اسرائیل نواز روایت جاری رکھیں گے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں آج منگل کو نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ایسے میں دور بیٹھے اسرائیلی یہ جائزہ لے رہے ہیں اور قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن میں سے کون اسرائیل کے مفادات کا بہتر تحفظ کرے گا؟

مگر امریکا سے تعلق رکھنے والے اسرائیل نواز لابی گروپ ''دی اسرائیلی پراجیکٹ'' نے انتخابی نتائج آنے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ'' دونوں صدارتی امیدواروں میں سے خواہ کوئی بھی جیتے ،امریکا کا اسرائیل کے بارے میں روایتی موقف جاری رہے گا اور اس کے ساتھ ہی کھڑے گا''۔

واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارت خانے میں ماضی میں بطور چیف آف اسٹاف خدمات انجام دینے والے دی اسرائیلی پراجیکٹ کے نائب صدر لائیر وینتراب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں دونوں جماعتوں کی جانب سے مضبوط حمایت حاصل ہے اور ہم اس کو سراہتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی صدر ماضی میں دونوں جماعتوں کے صدور کی روایت کو جاری رکھے گا/ گی۔ وہ سلامتی سے ثقافت تک ہر محاذ پر اتحاد کو فوقیت دے گا۔

سابق وزیر خارجہ اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن متعدد مرتبہ یہ بات کہہ چکی ہیں کہ وہ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کریں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔اس طرح انھوں نے انتہا پسند اسرائیلیوں اور ان کے لیڈروں کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا دائمی اور غیر منقسم دارالحکومت ہے۔

تاہم بیشتر اسرائیلی ہلیری کلنٹن کے حق میں ہیں لیکن قومیت پرست مذہبی اسرائیلیوں میں سے سخت گیر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔ان میں سے زیادہ تر امریکا سے تعلق رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ان صدارتی انتخابات کا فلسطینیوں کے لیے کیا مطلب ہے۔ ان میں اندرونی اختلافات بہت گہرے ہوچکے ہیں اور اسرائِیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے بھی کوئی امکانات نظر نہیں آتے ہیں۔اس تناظر میں فلسطینی مبصرین اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی صدارتی امیدوار سے ان کے مفادات کے تحفظ کی امید نہیں ہے۔

تجزیہ کار ہانی حبیب کا کہنا ہے کہ ''دونوں میں سے کوئی بھی صدر منتخب ہونے کی صورت میں اسرائیل کی امداد کے لیے امریکی کمٹمنٹ کو جاری رکھے گا۔دونوں نے اپنی انتخابی تقریروں سے فلسطینیوں کو نالاں کیا ہے۔البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے منتخب ہونے کی صورت میں امریکی سفیر کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ اس معاملے پر ہلیری کلنٹن نے لب کشائی نہیں کی ہے۔اس لیے ان دونوں پر اگر کوئی جوا لگایا جاتا ہے تو وہ ہارا ہی جائے گا''۔