.

داعش نے موصل کے مضافات سے سیکڑوں شہری اغواء کرلیے

سنجار سے 30 قبائلی عمائدین اغواء کے بعد قتل، 295 دیگر شہری بھی یرغمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ کو شکست فاش دینے اور شہر کو دہشت گردوں کے قبضے سےچھڑانے کے لیے 17 اکتوبر سے فوجی کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عراقی اور اتحادی افواج کی موصل میں پیش قدمی کے باوجود داعش بڑے تعداد میں شہریوں کو یرغمال بنا رہی ہے۔ موصل کے آس پاس اور تلعفر کے مقام سے 295 افراد کے اغواء کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ترجمان شامدا سانی نے منگل کو ایک بیان میں بتایا کہ انہیں مصدقہ رپورٹس ملی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ داعش نے تلعفر اور موصل کے آس پاس کے دوسرے مقامات سے تین سوکےقریب شہریوں کو اغواء کیا ہے۔ شمالی شہر سنجار سے 30 قبائلی عمائد بھی یرغمال بنائے گئے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے حمام العلیل قصبے سے 1500 خاندانوں کو بے دخل کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کی خاتون ترجمان کے بہ قول جبل سنجار سے داعش نے دو اور تین نومبر کو 30 قبائلی عمائدین کو یرغمال بنانے کے بعد چار نومبرکو ان میں سے 18 مغویوں کو قتل کردیا ہے۔

مسز شامداسانی نے بتایا کہ فیلڈ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مختلف ذرائع خبریں دے رہے ہیں مگر بہت سی خبریں نامکمل ہیں۔

درایں اثناء سوموارکے روز ’’العربیہ‘‘ چینل کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ عراقی فوج نے موصل کی دائیں جانب ساحلی علاقے پر ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ حمام العلیل قصبے کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ عراقی فوج نے گھمسان کی جنگ کے بعد حمام العلیل کو داعش سے چھڑا لیا ہے۔

کرد فورسز نے موصل کے نواحی علاقے ’’بعشیقہ‘‘ کو بھی داعش سے چھڑانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کرد فورسزکے ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر کرد فوج اور داعشی جنگجوؤں کے درمیان اکا دکا جھڑپیں جاری ہیں۔ بعشیقہ میں لڑائی کے دوران بڑی تعداد میں جنگجو ہلاک اور بارود سے بھری خود کش حملوں کے لیے تیار کی گئی گاڑیاں تباہ کردی گئی ہیں۔

اجتماعی قبر دریافت

ادھر عراقی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حمام العلیل کے مقام سے کوئی 15 کلو میٹر دور ایک اجتماعی قبر ملی ہےجس میں سو افراد کے سرقلم کرنے کے بعد اجتماعی طور پر دفن کیا گیا ہے۔

عراقی پولیس مطابق حمام اللیل قصبے سے ملنے والی اس اجتماعی قبر میں تقریباً سو لاشیں ہیں اور فرانزک ماہرین اب اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کیونکہ لاشیں ناقابل شناخت ہیں، اس لیے یہ کہنا فی الحال مشکل ہے کہ آیا یہ فوجی اہلکاروں کی لاشیں ہیں یا عام شہریوں کو قتل کے بعد یہاں دفن کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ داعش پہلے بھی بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں کا قتلِ عام کرتی رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ دہشت گرد گروہ کی جانب سے علاقے میں عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیا۔

پولیس کو موصل کے مضافات سے سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ فوجیوں اور عام شہریوں کی لاشیں بھی ملی ہیں۔ ان میں سے بیشتر نعشیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں میں پھینکی گئی تھیں۔ پولیس نے ان تمام افراد کی شناخت کے لیے ماہرین کی ٹیم روانہ کردی ہے۔

بارود سے بھری گاڑیاں اور بارودی جیکٹیں

ادھر مشرقی موصل سے ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہواہے کہ داعش نے ایک عمارت کو بارود سے بھری گاڑی سے تباہ کردیا جس کے نتیجے میں عمارت مکینوں کے سرو پر آگری اور بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

عراقی فوج کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو بارود سےبھری گاڑیوں اور بارودی جیکٹیں سے خود کش حملے کررہےہیں۔

عسکری رہ نماؤں کے مطابق داعش نے مشرقی موصل میں السماح کالونی میں ایک عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرکے پانچ خاندانوں کے 38 افراد کو اجتماعی طور پر موت کی نیند سلا دیا۔ مرنے والوں میں بیشتر بچے اور عورتیں بتائی جاتی ہیں۔ عراقی فوج کے مطابق مشرقی موصل میں داعش نے چار کار خود کش بم دھماکے کیے ہیں جب کہ فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے بارودی جیکٹیں پہنے پانچ دہشت گردوں نے خود کش دھماکوں سے خود کو اڑا دیا۔

نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات

ادھر موصل میں داعش کے خلاف لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ وہاں کی آبادی محفوظ مقامات پرنقل مکانی کی کوشش کررہی ہے۔ موصل کے مشرق میں قائم کردہ خازر پناہ گزین کیمپ میں بڑی تعداد میں شہری منتقل ہو رہےہیں مگر وہاں پرآنے والے تمام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے شہری اپنی اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے باسی روٹی کےٹکڑوں پر گذر اوقات کرنے پر مجبور ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ موصل میں جنگ کے نتیجے میں نقل مکانی کرنےوالے بچوں، عورتوں اور دیگر شہریوں کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ مہاجرین بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔ موسم سرما کے مزید قریب آنے سے نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ 17 اکتوبر سے موصل میں داعش کے خلاف جاری لڑائی کے دوران 34 ہزار شہری نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات تک پہنچے ہیں جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔