.

صدارتی انتخابات، امریکا ۔ خلیج تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران ہر بار یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ دنیا کی سپر پاور کا نیا صدر منتخب ہونے والی شخصیت کے دنیا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔ اس ضمن میں ایک اہم سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ نئے امریکی صدر کے خلیجی ملکوں کےساتھ تعلقات کی کیا نوعیت ہوگی۔ وائیٹ ہاؤس کا نیا میزبان اپنے پیشرو کی پالیسی پر چلے گا یا وہ اپنی مرضی کی نئی پالیسی تشکیل دے گا۔

ایک سپر پاور کی حیثیت سے امریکا میں ہونے والے تمام اہم اور بڑے فیصلے بالخصوص صدارتی انتخابات پوری دنیا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ امریکا اور خلیجی ممالک کے ازلی تزویراتی تعلقات چلے آ رہے ہیں۔ مگر موجودہ صدر باراک اوباما کی دوسری مدت صدارت کے دوران امریکا اور خلیجی ملکوں کے درمیان غیرمعمولی تناؤ سامنے آیا۔ یہ کہا جانے لگا ہے کہ امریکی انتخابات خلیجی کے ساتھ واشنگٹن کی پالیسی کی نئی راہیں متعین کرنے کا موجب بن سکتے ہیں۔

ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ خلیجی ملکوں کے خلاف گرجے برسے اور صدر منتخب ہو کر خلیج بارے پالیسی تبدیل کرنے کی دھمکی دی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا غصہ غیر منطقی ہے۔ امریکا اور خلیجی خطے کا تعلق کسی دوسرے خطے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہے۔ خاص طور پر معیشت کے میدان میں دو طرفہ تعاون امریکا اور خلیج کی بنیادی مجبوری ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن کا انتخابی پروگرام بہ ظاہر امریکا اور خلیج کے باہمی تعلق کو مضبوط اور محفوظ بنانے کی نشاندہی کرتا ہے۔

امریکا میں یہ صدارتی انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور خلیجی ملکوں میں بعض امور پر گہرے اختلافات ہیں۔ پچھلے چار سال کے دوران بالخصوص شام کے بحران کے حل میں ناکامی کے باعث امریکا اور خلیجی کے درمیان تلخی میں اضافہ ہوا۔ ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر امریکی معاہدہ اور آخر میں دہشت گردی سے متعلق ’جاسٹا‘ نامی ایک متنازع قانون کی منظوری نے خلیجی ملکوں کو مریکا سے کافی بد ظن کیا ہے۔