.

ٹرمپ کے تحت امریکا سے تعلقات بحال کرنے کی کوشش کروں گا: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر امریکا منتخب ہونے کے بعد عالمی سیاست میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی ہا ہوسکتی ہیں؟ اس کا پہلا مظہر تو روسی صدر ولادی میر پوتین کا تہنیتی بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ روس واشنگٹن کے ساتھ مکمل تعلقات بحال کرنے کو تیار ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں اچانک جیت سے عالمی لیڈر بھی ہکا بکا رہ گئے ہیں اور خود امریکا کی مستقبل کی پالیسیاں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوگئی ہیں کیونکہ ڈیمو کریٹک صدر براک اوباما کے آٹھ سالہ دور حکومت کے خاتمے کے بعد اب نومنتخب ری پبلکن صدر کی انتظامیہ نئی عالمی پالیسیاں وضع کرے گی۔

ان میں ایک روس سے متعلق پالیسی ہوگی۔صدر اوباما کے دور میں روس اور امریکا کے درمیان یوکرین کے بحران اور شام کے تنازعے کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں۔ حال ہی میں روس پر امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے سائبر حملوں کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے جس کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوگئے تھے۔

صدر پوتین نے بدھ کو غیرملکی سفارت کاروں سے سفارتی اسناد وصول کرنے کی تقریب میں کہا ہے کہ ''ہم نے مستقبل کے امریکی صدارتی امیدوار کی مہم کے دوران روس اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بحالی سے متعلق بیانات سنے تھے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے مگر ہم اپنے حصے کا کام کرنے ،روس اور امریکا کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی اور انھیں ترقی کے ایک مستحکم راستے پر استوار کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کو تیار ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''تعلقات کی یہ بحالی روسی اور امریکی عوام کے لیے مفید ثابت ہوگی اور اس سے عالمی امور پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے''۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کریملن کا دوست خیال کیا جاتا ہے اور صدر پوتین ماضی میں اپنے مستقبل کے امریکی ہم منصب کو ایک ذہین اور رنگا رنگ کردار کا حامل قرار دے چکے ہیں۔

کریملن نے اس سے پہلے ایک بیان میں روس کی جانب سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ نئے صدر کے دور میں شام میں جنگ کے معاملے میں امریکا کے ساتھ رابطہ کاری میں اضافہ ہوگا۔شام میں جاری جنگ میں امریکا اور روس ایک دوسرے کے مخالف فریقوں کی حمایت کررہے ہیں۔روس شامی صدر بشارالاسد کا پشتی بان ہے جبکہ امریکا باغی گروپوں کی حمایت کررہا ہے۔وہ ماضی میں وہ صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔تاہم حالیہ مہینوں کے دوران وہ اس مطالبے سے دستبردار ہوگیا ہے۔