.

ہلیری کلنٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے ، اپنے حریف امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے اور انھیں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیش کش کی ہے۔

ہلیری کلنٹن نے بدھ کے روز نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع ایک ہوٹل میں اپنے عملہ اور مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ'' میں نے رات ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی تھی اور اپنے ملک کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کی پیش کش کی تھی۔مجھے امید ہے کہ وہ تمام امریکیوں کے لیے ایک کامیاب صدر ثابت ہوں گے''۔

انھوں نے اپنے حامیوں پر زوردیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیں۔ وہ ٹرمپ کو بھی کھلے ذہن کے ساتھ قبول کریں اور انھیں قیادت کا موقع دیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی جمہوریت کا انحصار ''پُرامن انتقال اقتدار پر ہے''۔

ہلیری کلنٹن نے مزید کہا کہ صدارتی انتخاب کے لیے مہم ان کی زندگی کا ایک بڑا اعزاز ہے۔انھوں نے انتخابی نتائج کو ''درد آمیز'' قرار دیا لیکن کہا کہ ''یہ تمام کوشش ان کی اپنی ذات کے لیے نہیں تھی بلکہ اس ملک کے لیے تھی جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں''۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے بھی ڈیمو کریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر اپنی مایوسی کو بالائے طاق رکھ دیں اور صدارتی اختیارات کی کامیاب انداز میں منتقلی کے لیے مل جل کر کام کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''اب ہم سب کو ٹرمپ کی قیادت میں ملک کو متحد رکھنے اور انھیں کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہوجانا چاہیے''۔واضح رہے کہ صدر اوباما بھی ڈیمو کریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم اور انھیں کامیاب کرانے کے لیے پیش پیش رہے تھے۔ان اہلیہ میشل اوباما بھی ہلیری کلنٹن کی انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتی رہی تھیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود صدارتی انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔