.

مسلمانوں سے متعلق ٹرمپ کا متنازع بیان دوبارہ نشر!

متنازع بیان کی ویڈیو کئی ماہ بعد دوبارہ ویب سائیٹ پر پوسٹ کردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ماہ تک جاری رہنے والی انتخابی مہم کے دوران بعض ایسے بیانات بھی دیے جو اب صدر بننے کے بعد بھی ان کا پیچھا کرتے رہے ہیں۔

ان میں پچھلے سال دسمبر میں اپنے حامیوں کے ایک جلسے سے خطاب کے دوران امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی سے متعلق بیان بھی شامل ہے جس کے رد عمل میں پوری اسلامی دنیا نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے مطالبے پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر تو موجود رہی مگر خود ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی ویب سائیٹ سے کئی ہفتوں تک یہ ویڈیو غائب رہی ہے۔ مگر کل جمعرات کو امریکا میں مسلمانوں کے داخلے کی مخالفت پر مبنی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی ویڈیو ایک بار پھر اپ لوڈ کی گئی ہے۔

ٹرمپ کی میڈیا ٹیم کا کہنا ہے کہ دسمبر 2015ء کو ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک کارروائی کے نتیجے میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی جس کے باعث ٹرمپ کی متنازع ویڈیو کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے سال دسمبر میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ وہ صدرت منتخب ہو کر امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عاید کریں گے۔ ان کے اس بیان کی ویڈیو ٹیپ ٹرمپ کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کردی گئی تھی مگر کچھ دنوں کے بعد اسے ہٹا دیا گیا تھا۔

ٹرمپ کی میڈیا ٹیم کا کہنا ہے کہ فنی خرابی کے باعث ویڈیو کو ویب سائیٹ سے ہٹایا گیا تھا مگر اب اس فنی خرابی دور کرنے کے بعد دوبارہ اسے ویب سائٹ پر پوسٹ کردیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بعض متنازع نوعیت کے بیانات بار بار دہراتے رہتے ہیں مگر مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگانے سے متعلق بیان دوبارہ نہیں دیا البتہ انہوں نے اپنے سابقہ بیان کی تردید بھی نہیں کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں رہنے والے تارکین وطن اور اپنی ناپسندیدہ شخصیات کے حوالے سے کھل کر نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کی نفرت کا نشانہ امریکا میں رہنے والے مسلمان بھی بنے ہیں۔