.

موصل میں شیعہ ملیشیا انسانی حقوق کی پامالیوں کی مرتکب: ایمنسٹی

الحشد الشعبی کے جنگجو پولیس کی وردیوں میں شہریوں کو قتل کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں الزام عاید کیا ہے کہ عراق میں سرکاری فوج کی معاون شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی کے جنگجو پولیس کی وردیوں میں معصوم شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کررہے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں موصل میں داعش کے خلاف جاری آپریشن کےدوران الحشد الشعبی ملیشیا کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کےواقعات بیان کیے گئےہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الحشد الشعبی کے جنگجو موصول کے مضافاتی علاقوں میں آپریشن کےدوران عام شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں اذیتیں دینے اور عراقی پولیس کی وریاں پہن کر شہریوں کو گولیاں مارکر ہلاک کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیعہ ملیشیا نے جنوبی موصل میں آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا یا انہیں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

عراق کے مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق الحشد الشعبی ملیشیا کے جنگجو نینویٰ کے علاقے میں جاری فوجی کارروائی میں اپنی شرکت کو مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے انتباہ کے باوجود شیعہ ملیشیا جنوبی موصل میں شہریوں کا قتل عام جاری رکھنے پر مصر ہے۔

الحشد الشعبی نامی شیعہ عراقی عسکری تنظیم نے موصل شہر میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن میں تما محاذوں پراپنی جنگجو تعینات کیے ہیں۔ جنوبی اور مغربی موصل کی سمتوں نے الحشد الشعبی کے جنگجوؤں نے فوج کے شانہ بشانہ لڑائی کےدوران کئی اہم علاقوں کو داعش سے چھڑانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں موصل میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عراقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی حکومت موصل آپریشن کےدوران شہریوں کے ماورائے عدالت قتل اور تشدد کے واقعات کی جامع اور شفاف تحقیقات کرے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القیارہ اور الشورۃ کے مقامات پر جنگجوؤں نے عام شہریوں کو گولیاں مار کر قتل کیا جب کہ بڑی تعداد میں نوجوانوں اور بچوں کو داعش سے تعلق کے شبے میں حراست میں لینے کے بعد اذیتیں دی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے پاس شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں 6 شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ جب کہ تنظیم کے جنگجوؤں کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے واقعات کی شکایات کا انبار لگا ہوا ہے۔