.

ٹرمپ کی باتیں ان کے حجم سے بڑی ہوتی ہیں: ایرانی چیف آف اسٹاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت اور ایران کے حوالے سے ان کے وعدوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ٹرمپ اپنے حجم سے زیادہ بڑی باتیں کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے خلیج میں امریکی میرینوں کے قیدی بنائے جانے کے موقع پر کہا تھا کہ اگر یہ واقعہ ان کے زمانے میں ہوتا تو وہ کسی دوسری صورت سے نمٹتے"۔

ایک دوسرے سیاق میں باقری نے انکشاف کیا کہ ایران نے شام کے شہر حلب میں اس ساخت کے راکٹ تیار کیے ہیں جن سے حزب اللہ نے 2006 میں اسرائیل کے خلاف اپنی جنگ میں بھی استفادہ کیا تھا۔

باقری نے اس امر کی تصدیق کی کہ ایرانی فوجی اہل کار اس وقت شام میں تہران نواز ملیشیاؤں کی قیادت کر رہے ہیں۔

"امریکا میں ایرانی لابی اندازوں میں غلطی کر بیٹھی "

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے نزدیک شمار کی جانے والی ویب سائٹ "جوان آن لائن" نے امریکا میں ایرانی لوبی (ناياک) کی جانب سے پیش کی گئی ان معلومات اور رپورٹوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن میں صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی کامیابی کو حتمی قرار دیا گیا تھا۔ ویب سائٹ کے مطابق اس امر کے سبب ایرانی وزارت خارجہ اپنی تمام تر امیدیں ڈیموکریٹک امیدوار کی جیت سے لگا بیٹھی تھی۔

"جوان آن لائن" کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ روسی حکومت (جس نے ٹرمپ کی کامیابی پر بازی لگائی تھی) کے برعکس "ہارے ہوئے گھوڑے" پر بازی لگا بیٹھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ 2015 میں چھ بڑے ممالک اور تہران کے درمیان طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کو پھاڑ ڈالیں گے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے رویے کی حدت میں کمی لاتے ہوئے کہا کہ " وہ معاہدے کی شقوں پر عمل درامد کی کڑی نگرانی کریں گے تاکہ اسے برے معاہدے سے ایک اچھے معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے"۔